اخوانِ رسول کا دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶
دعوتی مشن کو ادخالِ کلمہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لا يبقی علی ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4) یعنی زمین کی پشت پر کوئی خیمہ یا کوئی گھر باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آخری زمانے میں اسلام کی سیاسی حکومت ساری دنیا میں قائم ہو جائے گی۔ یہ حدیث واضح طور پر دعوتی توسیع کے معنی میں ہے، نہ کہ حکومتی توسیع کے معنی میں۔ حدیث میں 'کلمۂ اسلام' کا لفظ ہے، نہ کہ حکومتِ اسلام کا لفظ۔ دعوت کی عالمی توسیع کا یہ کام آخری زمانے میں سائنٹفک کلچر کی تائید سے انجام پائے گا۔ آخری زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے ایسے وسائل اور ایسی ٹکنالوجی دریافت ہوگی جو تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دے گی کہ کرہ ارض پر بسے ہوئے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچ جائے۔ خواہ نہ ماننے والے اُس کو نہ مانیں، اور ماننے والے اس کو مان کر خدا کے انعام کے مستحق بنیں۔ اس پیشین گوئی سے مراد واضح طور پر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ظاہر ہونے والا وہ دور ہے جس کو کمپیوٹرائج (computer age) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کا آخری رول الصالحون (105: 21) کے لیے مقدر ہے۔ یہ رول قیامت کے بعد جنت میں ملکوتی کلچر (angelic culture) کی تائید سے انجام پائے گا۔
حدیث رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں اخوانِ رسول کا ظاہر ہونا یقینی ہے، تاکہ وہ دعوتی عمل انجام پائے جو آخری زمانے کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ جس طرح ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے لیے ایک رول مقدر تھا جس کو انھوں نے انجام دیا، اسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے لیے ایک رول مقدر ہے جس کو وہ اللہ کی توفیق سے انجام دیں گے۔ دنیا میں کوئی فرشتہ ظاہر ہو کر یہ اعلان نہیں کرے گا کہ فلاں گروہ اخوانِ رسول کا گروہ ہے۔ اس قسم کا اعلان صرف آخرت میں ہوگا۔ البتہ صاحبِ معرفت افراد اُس کو پہچانیں گے اور اس کا ساتھ دے کر آخرت کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues