اخوانِ رسول کا دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷
اخوان رسول کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے اس کو یقینی طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ دو بڑے دوروں (periods) میں تقسیم ہے— روایتی دور، اور سائنسی دور۔ امتِ مسلمہ سے ہر زمانے میں ایک ہی کام مطلوب ہے، اور وہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ روایتی دور میں جن لوگوں نے اِس کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیا، وہ اصحاب رسول کہے جاتے ہیں۔ اِس طرح بعد کے سائنسی دور میں جو لوگ دعوت کے کام کو پیغمبرانہ نمونے کے مطابق انجام دیں، وہ اخوان رسول قرار پائیں گے۔
مزید مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول نے جو کام انجام دیا، وہ قرآن کے الفاظ میں، اظہارِ دین (48: 29) کا کام تھا۔ بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول جو کام انجام دیں گے، وہ حدیث کے الفاظ میں، ادخالِ کلمۂ اسلام کا کام ہوگا۔ ادخال کلمہ کا لفظ اپنے آپ یہ متعین کر رہا ہے کہ اس کا زمانہ کیا ہوگا۔ دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں ادخال کلمہ کا کام صرف اُس وقت انجام دیا جاسکتا ہے جب کہ اُس کے لیے اُس کے موافق اسباب پیدا ہو چکے ہوں۔ مثلاً عالمی کمیونیکیشن، مذہبی آزادی، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب پیدا ہو چکے ہیں، اِس لیے یقینی ہے کہ وہ زمانہ اب وقوع میں آچکا ہے جب کہ اخوانِ رسول کی جماعت ظاہر ہواور وہ نئے مواقع کو استعمال کر کے عالمی ادخال کلمہ کا کام انجام دے۔
مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سارا کام بشر کی سطح پر ہوگا، نہ کہ فوق البشر کی سطح پر۔ اصحاب رسول بشر تھے۔ انھوں نے بشر کی سطح پر اپنے رول کو انجام دیا۔ اصحابِ رسول کو اُن کے معاصرین میں سے صرف اُن لوگوں نے پہچانا جو یہ جانتے تھے کہ اصحاب رسول بشر ہیں، نہ کہ فوق البشر۔ اِس طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کا رول بھی بشر کی سطح پر ہوگا۔ اِس بنا پر اخوانِ رسول کو پہچاننے اور ان کا ساتھ دینے کی توفیق صرف وہ لوگ پائیں گے جو اِن کو بشر کی سطح پر پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو لوگ اخوانِ رسول کے بارے میں کوئی پراسرار تصور رکھتے ہوں، جو اِن کو بشر کے بجائے فوق البشر کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہوں، وہ اخوانِ رسول کے زمانے میں اخوانِ رسول کو پہچاننے میں اُسی طرح نا کام رہیں گے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues