اخوانِ رسول کا دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸
جس طرح اصحاب رسول کے زمانے میں لوگ اصحاب رسول کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ تائید بذریعہ سیکولر تہذیب ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062) یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید کرے گا فاجر انسان کے ذریعے ۔ اس حدیث میں فاجر کا لفظ گناہ گار کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ سیکولر یا غیر مومن (unbeliever) کے معنی میں ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بار بار ایسا ہوا کہ ایک غیر مومن یا غیر متقی انسان نے کسی موقع پر دینِ خداوندی کی مدد کی۔ مثلاً ہجرت کے مشکل سفر میں عبداللہ بن ارقط کی رہنمائی، خیبر کے غزوہ میں قُزمان الظفری کا صحابہ کے ساتھ لڑنا، وغیرہ۔ اس قسم کی تائیدِ دین کا غالباً سب سے بڑا واقعہ وہ ہے جو بیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ جدید دور میں مغرب کے مفکرین اور سائنس دانوں نے غیر معمولی محنت کر کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا۔ اس کے نتیجے میں جدید مغربی تہذیب وجود میں آئی۔ یہ تہذیب ایک سیکولر تہذیب تھی اور اس کو وجود میں لانے والے افراد بھی سب کے سب سیکولر تھے۔ نیز اس کا استعمال بھی عام طور پر سیکولر مقاصد کے لیے کیا گیا، لیکن اس جدید تہذیب کے اندر ایک اور عظیم امکان چھپا ہوا تھا۔ یہ دعوتی امکان تھا۔ ان دعوتی مواقع نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنایا کہ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام موثر انداز میں پہنچا دیا جائے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔
عالمی سطح پر ادخالِ کلمہ کا دعوتی کام پر اصرار طور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کام قدیم روایتی وسائل کے ذریعے بھی انجام دینا ممکن نہ تھا۔ مثلاً عقبہ بن نافع تابعی (وفات: 683ء) گھوڑے پر سوار ہو کر افریقہ کی شمالی سرحد تک گئے، لیکن اُس زمانے میں بحر اٹلانٹک کو (Atlantic Ocean) کو پار کرنے کا کوئی وسیلہ موجود نہ تھا، اس لیے اُن کا دعوتی مشن افریقہ کے ساحل سے آگے نہ بڑھ سکا۔ مغربی تہذیب کے ذریعے دعوت کے جو نئے مواقع کھلے، وہ بنیادی طور پر دو قسم کے مواقع تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues