Al-Risala · April 2011 · page 29

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا مشترک رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹

اس کا ایک پہلو وہ تھا جس کو فکری پہلو کہا جاسکتا ہے، یعنی فکری اور نظریاتی اعتبار سے نئے دعوتی مواقع کا پیدا ہونا۔ مثلاً مکمل مذہبی آزادی، عمومی سطح پر روح تجسس (spirit of enquiry) کا وجود میں آنا، مذاہب کا غیر اعتقادی مطالعہ، وغیرہ۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ یہ ہوا کہ سائنسی مطالعے کے نتیجے میں فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔ ان دریافتوں کے نتیجے میں مذہب توحید کو خود انسان کے قائم کردہ علمی معیار پر مدلل کرنا ممکن ہو گیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا عظیم دعوتی امکان ہے جسے قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بطور پیشین گوئی اس طرح بیان کیا گیا تھا: سنریهم آیاتنا فی الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (53 :41)۔

اس سلسلے میں پہلا اہم واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے دعوت کے کام کو دستی کتابت کے مرحلے سے نکال کر پرنٹنگ کے مرحلے میں پہنچا دیا۔ اسی طرح جدید کمیونکیشن کی دریافت ہے۔ جدید کمیونکیشن اور ملٹی میڈیا نے بیسویں صدی عیسوی میں پہلی بار حقیقی طور پر اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدائی پیغام کو نہ صرف سارے عالم میں پہنچایا جاسکے، بلکہ اس کو اتنی سرعت کے ساتھ انجام دیا جائے کہ وقت کا معاملہ اضافی (relative) ہوجائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں فوری مواصلات (instant communication) کہا جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمیونکیشن اور میڈیا کے میدان میں یہ ناقابل قیاس ترقی اسی لیے ہوئی کہ آخری دور کے داعیوں کی جماعت (اخوان رسول) اُس کو استعمال کرکے ادخال کلمہ کے عمل کو مؤثر طور پر انجام دے سکے۔

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا مشترک رول

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول ایک ہی امت کے دو مختلف گروہ ہیں۔ دونوں گروہوں کے درمیان بظاہر ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہوگا۔ دونوں اپنے اپنے دور کے اعتبار سے دعوت الی اللہ کا کام انجام دیں گے، مگر دونوں گروہوں کے درمیان ایک چیز مشترک (common) ہوگی، وہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page