Al-Risala · April 2011 · page 30

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا مشترک رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰

یہ دونوں اللہ کی خصوصی توفیق سے ایک ایسے منفی اتحاد (nexus) کو توڑیں گے جو دعوتی مشن کے راستے میں سنگین رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

اصحابِ رسول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اِس زمانے میں یہ صورتِ حال تھی کہ ہزاروں سال کی روایات کے نتیجے میں شرک اور پولیٹکل پاور کے درمیان خطرناک قسم کا اتحاد (nexus) قائم ہوگیا تھا۔ یہ اتحاد، دعوت الی اللہ کے کام کو آگے بڑھانے میں ایک مستقل رکاوٹ (road block) بنا ہوا تھا۔ شرک کے علم بردار پولیٹکل پاور کی مدد سے توحید کی دعوت کو ابتدا ہی میں کچل کر ختم کر دیتے تھے۔ اصحابِ رسول نے شرک اور پولیٹکل پاور کے اِس منفی اتحاد کو اپنی بے پناہ قربانیوں کے ذریعے ختم کیا۔

ساسانی ایمپائر اور رومی ایمپائر کے خلاف مسلح ٹکراؤ اِسی قسم کا آخری اور فیصلہ کن واقعہ تھا۔ اِس ٹکراؤ کا آغاز دونوں ایمپائر کی طرف سے کیا گیا۔ اُس وقت اصحابِ رسول نے خلیفہ عمر فاروق کی قیادت میں بے مثال قربانی کا ثبوت دیا، یہاں تک کہ دونوں ایمپائر ٹوٹ گئے۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ توحید کا رکا ہوا سیلاب ایک طوفان بن کر سارے عالم میں پھیل گیا۔

اِسی طرح بیسویں صدی میں ایک نیا غیر مطلوب اتحاد (nexus) قائم ہوا ہے۔ اِس اتحاد کو الحاد (atheism) اور سائنس کے درمیان اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، علمِ فطرت کا نام ہے، لیکن الحاد کے علم برداروں نے سائنس کو غلط تعبیر کے ذریعے الحادی نظریات کی حمایت کے لیے استعمال کیا، انھوں نے سائنس کو اپنے مقصد کے لیے ہائی جیک (highjack) کر لیا۔ یہ گویا سیکولرائزیشن آف سائنس (secularization of science) کا معاملہ تھا۔ اِس طرح عملاً یہ ہوا کہ جدید سائنس دعوتِ توحید کی معاون بننے کے بجائے اس کی رقیب (rival) بن گئی۔ بدقسمتی سے لوگوں نے ہائی جیکڈ سائنس (highjacked science) کو جانا، وہ پیور سائنس (pure science) سے بے خبر رہے۔ اِس لیے وہ سائنس کے بارے میں منفی ہوگئے، انھوں نے سائنس اور الحاد کو ہم معنی سمجھ لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page