اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا مشترک رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱
بعد کے زمانے کے اخوانِ رسول دوبارہ یہ کارنامہ انجام دیں گے کہ وہ سائنس اور الحاد کے اس اتحاد کو توڑیں اور دوبارہ توحید کو ایک فکری اور نظریاتی سیلاب کا درجہ عطا کردیں۔ اصحابِ رسول کو اس مقصد کے لیے مسلح جہاد کرنا پڑا تھا۔ اخوانِ رسول کے زمانے میں حالات بدل چکے ہوں گے۔ اخوانِ رسول اپنا مقصد فکری جہاد (ideological jihad) کے ذریعے حاصل کریں گے۔ اخوانِ رسول کا رول پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعوتی مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ آپ خدا کے آخری رسول تھے۔ آپ کے زمانے میں پہلی بار آپ کے متبعین (followers) کی ایک طاقت ور ٹیم بنی۔ اس ٹیم کو تاریخ میں، اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی ایک پیشین گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں دوبارہ آپ کے متبعین کی ایک طاقت ور ٹیم بنے گی۔ اس دوسری ٹیم کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ دوسری ٹیم خدا کی خصوصی مدد سے آخری زمانے میں اہم دعوتی رول ادا کرے گی۔ ان دونوں جماعتوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الفتح کی آخری آیتوں کے مطالعے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:” محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں کے اوپر شدید ہیں۔ وہ باہم ایک دوسرے کے لیے مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں، سجدہ میں دیکھو گے، وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی اُن کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ زارعین کو بھلا معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور ایک بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ “(29: 48)۔
قرآن کے اس حصے میں دو حالوں کا ذکر ہے، تو رات اور انجیل۔ تو رات کے حوالے سے اصحاب رسول کا وہ انفرادی کردار بیان ہوا ہے جس کا اظہار دورِ اول میں خود زمانہ رسالت میں پیش آیا۔ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues