Al-Risala · April 2011 · page 32

بعد کے دور کے اہل ایمان

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲

خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبرِ اسلام کو پہچاننا اور کسی تحفظ (reservation) کے بغیر آپ کا ساتھ دیا۔ وہ اعلیٰ درجے کے بااصول افراد تھے۔ وہ کامل معنوں میں عبادت گزار تھے۔ وہ اللہ پر اعتماد کرنے والے تھے۔ موجودہ تورات میں ان کے لیے قدسیوں (saints) کا لفظ آیا ہے (33:2 Deuteronomy)۔ انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اصحابِ رسول کا ذکر آیا ہے، وہ درخت کی تمثيل کے روپ میں ہے (13:31-32 Mathew)۔ درخت کی تمثیل سے مراد تاریخی عمل (historical process) ہے۔ اصحابِ رسول کا ایک رول وہ ہے جو انہوں نے اپنے زمانے میں ادا کیا۔ ان کا دوسرا رول وہ تھا جو اس کے روپ میں انجام پایا۔ اصحابِ رسول کے انقلابی عمل نے تاریخ میں ایک پر اس جاری کیا جو مختلف صورتوں میں بعد کی نسلوں میں آگے بڑھتا رہا۔

چار ہزار سال پہلے ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک پر اس جاری ہوا تھا۔ اس پر اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور پر ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول (companions of the Prophet) کا گروہ وجود میں آیا۔ اس کے بعد دوسرا تاریخی پر اس وہ تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے انقلابی عمل کے ذریعے تاریخ میں شروع ہوا۔ اس دوسرے تاریخی پر اس کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوانِ رسول (brothers of the Prophet) کہا گیا ہے۔

احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوانِ رسول کا یہ گروہ غالباً اُس زمانے میں پیدا ہونے والا تھا جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اخوانِ رسول کا گروہ سائنسی زمانے کی دریافتوں سے واقف ہو کر اعلیٰ معرفت رب حاصل کرے گا۔ دوسری طرف وہ نئے طاقت ور ذرائع کو استعمال کر کے اِس عالمی دعوت کو انجام دے گا جس کو حدیث میں ادخال الکلمۃ فی کل البیوت (ہر گھر میں کلمۂ اسلام کا داخلہ) کہا گیا ہے۔

بعد کے دور کے اہل ایمان

روایات میں بعد کے دور کے ایسے اہل ایمان کا ذکر ہے جو ایمان و اسلام کے خصوصی اوصاف

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page