Al-Risala · January 2011 · page 18

ادخال کلمہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸

جدوجہد کے بعد ایک نیا دور پیدا کیا۔ یہ دور مواصلاتی دور (age of communication) ہے جو عالمی پیغام رسانی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان موافق اسباب کی فراہمی کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کر کے خدا کے کلام کو ساری دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے۔ آؤٹ سورسنگ کے اس طریقے کو حدیث میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ ایک طویل حدیث میں اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله ليؤيّد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسير، باب: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر) یعنی اللہ بے شک اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔

ادخال کلمہ

ادخال کلمہ سے مراد وہ دعوتی عمل ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الاسلام، بعزّ عزيز وذلّ ذليل (مسند احمد، جلد 6، صفحہ (4) یعنی زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا گھر یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلت والے کی ذلت کے ساتھ (willingly or unwillingly)۔

پچھلی صدیوں میں خدا کا دین مستند متن (authentic text) کے اعتبار سے پوری طرح محفوظ ہو گیا۔ اس کے بعد دنیا میں مذہبی آزادی کا دور اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ قائم ہو گیا۔ اس کے بعد اگلا کام یہ ہوا کہ دنیا میں جدید مواصلات (modern communication) کا زمانہ پوری طرح آ گیا۔ ان موافق اسباب کے ظہور کے بعد اب اکیسویں صدی میں آخری طور پر جو کام انجام پانا ہے، وہ یہ کہ ادخال کلمہ کی پیشین گوئی پوری ہو اور جدید مواصلاتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے خدا کا کلام تمام دنیا کے مردوں اور عورتوں تک پہنچ جائے۔

تاریخ دعوت کے پہلے دور کا کام (اعلانِ حق) خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ دوسرے دور کا کام (اظہار دین) بنیادی طور پر اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page