Al-Risala · April 2011 · page 33

بعد کے دور کے اہل ایمان

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۳

کے حامل ہوں گے۔ اس سلسلے میں چند روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:

حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل أمتی مثل المطر، لا يدرى أوله خير أم آخره (الترمذی، رقم الحدیث: 2869) یعنی میری امت کی مثال بارش کی مثال جیسی ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا پہلا زمانہ بہتر ہو گا یا اس کا آخری زمانہ۔ اس حدیث میں بارش کی مثال کے ذریعے ایک تاریخی پراسس (historical process) کو بتایا گیا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اپنے آغاز کے اعتبار سے، ایک زمانی ظاہر ہ تھا۔ اُس کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، وہ اپنے مابعد انجام کے اعتبار سے مستقبل کا ایک واقعہ ہے۔ اس مستقبل سے مراد غالباً وہی تاریخی ظاہر ہ ہے جس کا حوالہ دوسری روایت میں اخوان رسول کے الفاظ میں ملتا ہے۔

حضرت مالک الاشاعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبــاد ليسوا بأنبياء ولا شهداء، يغبطهم النبيون والشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 341) یعنی خدا کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو پیغمبر ہیں اور نہ شہید ہیں، ان کے اوپر پیغمبر اور شہید بھی رشک کریں گے، اُن کے اُس درجے اور قربت کی وجہ سے جو قیامت کے دن انھیں خدا کے یہاں حاصل ہوگا۔

اس روایت میں غالباً اُن اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو دورِ سائنس میں پیدا ہوں گے، جب کہ فطرت میں نئی دریافتوں کی بنا پر معرفت کا نیا فریم ورک وجود میں آئے گا اور اس کو استعمال کر کے کسی کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اعلیٰ معرفت کا تجربہ کرے۔ غالباً اس جماعت سے مراد وہی لوگ ہیں جن کو دوسری روایت میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں کا معاملہ ایک اعتبار سے یکساں ہے۔ وہ ہے اپنے زمانے کے مواقع کا دینی استعمال۔ اصحاب رسول نے بنواسماعیل کے ذریعے پیدا ہونے والی صحرائی تہذیب کے مواقع کو استعمال کیا۔ اخوانِ رسول بعد کے زمانے میں سائنسی دور کے مواقع کو دین کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page