عالمی انذار و تبشیر
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۴
لیے استعمال کریں گے۔ ان مواقع کو اخوانِ رسول کے ذریعے استعمال کئے جانے کی جو صورتیں مطالعہ کے ذریعے سمجھ میں آتی ہیں، وہ غالباً یہ ہوں گی:
1- فطرت میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے پیدا ہونے والے استدلالی مواقع کا استعمال۔ مثلاً خدا کے وجود پر فلسفہ اور متکلمین کے مبنی برمعنویت استدلال (argument from design) کو جدید شواہد کے ذریعے مدلل کرنا۔
2- جدید مواصلاتی مواقع کا عالمی دعوت کے لیے استعمال، یعنی پرنٹ میڈیا یا اور الیکٹرانک میڈیا یا دوسرے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت کی عالمی اشاعت۔
3- بعد کے دور میں حاصل ہونے والی مذہبی آزادی کا بھر پور استعمال، دعوتِ حق کی عمومی اشاعت کے لیے پر امن جدوجہد۔
عالمی انذار و تبشیر
قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے: تبارك الذی نزل الفرقان علی عبده ليكون للعالمين نذيرا (25:1)۔ یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کو عالمی انذار و تبشیر کے لیے اتارا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اترا۔ اُس وقت اور اس کے بعد ہزار سال تک وہ ذرائع موجود نہ تھے جن کو استعمال کر کے قرآن کرہ ارض کے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے، نہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے موجود تھے، نہ تیز رفتار سواریاں تھیں، نہ جدید کمیونیکیشن تھا۔ اُس زمانے میں ساری دنیا میں صرف علاقائی زبانیں (regional languages) تھیں ۔ کوئی ایسی بین الاقوامی زبان (international language) موجود نہ تھی جس میں ترجمہ کیا جائے تو قرآن تمام لوگوں کے لیے قابل فہم بن سکے، وغیرہ۔ ایسی حالت میں کیوں کر یہ ممکن تھا کہ قرآن کا مقصد نزول پورا ہو اور پہنچانے والے اس کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues