Al-Risala · April 2011 · page 35

سیکولر سو یلائزیشن، اِسپر یچول سو یلائزیشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۵

اس کا جواب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورۃ الانعام میں یہ آیت آئی ہے: وأوحي إلي هذا القرآن لأنذركم به ومن بلغ (6: 19) یعنی اے رسول کہہ دو کہ مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اُس سے خبردار کردوں، اور وہ بھی جسے یہ قرآن پہنچے، یعنی میں اپنے زمانے کے لوگوں کو آگاہ کروں، اور میرے بعد آنے والے اہلِ ایمان اپنے زمانے کے لوگوں کو اس سے آگاہ کرتے رہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنے ہم زمانہ (contemporaries) لوگوں تک قرآن کو پہنچادے۔ اس کے بعد امت کی یہ مستقل ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور کے لوگوں تک قرآن کو پہنچاتی رہے۔ امت کی ہر نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں تک اُسی طرح قرآن کو پہنچائے جس طرح پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں تک قرآن کو پہنچایا تھا۔ قرآن کی دعوتی اشاعت کا یہ کام نسل در نسل کیا جانے والا کام ہے۔ اس ابتدائی دور میں قرآن کی دعوتی اشاعت کا کام جن لوگوں نے انجام دیا، اُن کو صحابی اور تابعین اور مفسرین، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح دور آخر میں بھی امت کا ایک خصوصی گروہ ہوگا جو اپنے زمانے کے نئے پیدا شدہ مواقع دعوت کو استعمال کرکے قرآن کی عمومی اشاعت کا یہ کام انجام دے گا۔ آخری دور کا یہی وہ خصوصی گروہ ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا نام دیا گیا ہے۔

سیکولر سو یلائزیشن، اِسپر یچول سو یلائزیشن

قرآن کی سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون (51: 56)۔ اِس آیت میں 'يعبدون' سے مراد 'يعرفون' ہے، یعنی اللہ نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ غور وفکر (contemplation) ہے، یعنی تخلیقات میں غور کر کے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور پھر اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔

مقصد تخلیق کے بارے میں ایک مشہور قول یہ ہے: كُنتُ كنزاً مخفياً، فأحببتُ أن أُعرف، فخلقت الخلق (کشف الخفاء، 2/1011) یعنی اللہ نے فرمایا کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page