Al-Risala · April 2011 · page 36

سیکولر سو یلائزیشن، اِسپر یچول سو یلائزیشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۶

میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، تو میں نے اس مقصد کے لیے خلق (انسان) کو پیدا کیا۔ کسی عارف کا یہ قول اصلا سورہ الذاریات کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔ قائل نے کلام کی رعایت سے اس کو حدیث قدسی کے اسلوب میں بیان کر دیا ہے۔ اگر اسلوب کو بدل دیا جائے اور اس کو معروف تفسیری اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا : کان اللہ کنزاً مخفياً، فأحب أن يُعرف، فخلق الخلق ۔

اللہ تعالیٰ نے پہلے جنات کو پیدا کیا۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ کائنات میں چھپے ہوئے رموز معرفت کو دریافت کریں اور خدا کی عظمت کا اعلان واظہار کریں۔ مگر جنات کے سردار ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات (12 :7) کی نفسییات میں مبتلا ہوگئے، وہ اللہ کی کبریائی کی معرفت حاصل نہ کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنات نے خود اپنی عظمت (self-glory) کو جانا، مگر وہ خدا کی عظمت (glory of God) کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کی تخلیق اس لیے ہوئی کہ وہ جنات کے بعد اُن کا جانشین بنے۔ اُس وقت یہ معاملہ فرشتوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ انھوں نے یہ اشکال ظاہر کیا کہ جس طرح جن، مقصد تخلیق کو پورا کرنے میں ناکام رہے، اُسی طرح انسان بھی ناکام رہے گا، وہ تخلیق کے مقصد کو پورا نہ کر سکے گا۔ فرشتوں کے اشکال کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرہ (demonstration) کا انتظام کیا۔ اس مظاہرے کا خلاصہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے : علم آدم الأسماء كلها (31 :2)۔ اس آیت میں اسماء سے مراد مسمیات ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اضافی انعام کے طور پر انسان کو تمام اشیا کا علم عطا فرمایا، اُس نے انسان کی فطرت میں تمام تخلیقات کا علم داخل کر دیا۔ اس طرح انسان اپنے لاشعور (unconscious mind) کی سطح پر بطور امکان (potentially) ہر چیز سے واقف ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے وقتی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس کے بعد فرشتے مطمئن ہوگئے۔ قرآن کے اس حصے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات کو دماغ دیا گیا تھا، لیکن اجزاء معرفت کا پیشگی علم اُنھیں حاصل نہ تھا۔ اُن سے مطلوب تھا کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے کائنات میں چھپے ہوئے رموز معرفت کو دریافت کریں۔ اُنھیں غور وفکر کے ذریعے اپنے نامعلوم کو معلوم

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page