سیکولر سو یلائزیشن، اِسپر یچول سو یلائزیشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۷
بنانا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں نا کام رہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام کے ساتھ انسان کو پیدا فرمایا۔ وہ مزید اہتمام یہ تھا کہ جن اجزاء معرفت کو اُسے دریافت کرنا تھا، اس کو پیشگی طور پر اس کے لاشعور میں داخل کر دیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: بل هو آيات بينات في صدور الذين أتوا العلم (29:49) یعنی تمام اجزاء معرفت پیشگی طور پر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں موجود ہیں۔ اب انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اس لاشعور کو شعور میں لے آئے۔ دریافت یا ان فولڈنگ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو علمی دنیا میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے، وہ حقیقت میں دریافت نہیں ہے، بلکہ وہ ان فولڈنگ (unfolding) ہے، یعنی جو چیزیں انسان کی فطرت میں پہلے سے بالقوہ (potential) طور پر موجود ہیں، اُن کو بالفعل (actual) طور پر وقوع میں لانا۔ جنات کو اپنے لامعلوم کو معلوم بنانا تھا، اس میں وہ ناکام ہو گئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی مخلوق کے لیے تیسیر کا معاملہ فرمایا، یعنی غیر شعوری سطح پر موجود چیزوں کو شعور کی سطح پر معلوم بنانا۔ سائنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سائنس دانوں کی ہر دریافت اتفاقی دریافت ہے، وہ صرف اتفاقی طور پر سائنس داں کے علم میں آتی ہے:
It is discovered by scientist by the way of accident. مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سائنسی دریافتوں کا معاملہ ایکسیڈنٹ (accident) کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ کو انسیڈینٹس (co-incidence) کا معاملہ ہے، یعنی سائنس داں کوئی تجربہ کر رہا ہوتا ہے، اُس وقت ایک چیز فلیش (flash) کرتی ہے۔ یہ فلیش اس کے لاشعور میں موجود ایک علم سے مطابقت کرتا ہے۔ اس کے بعد سائنس داں مزید تجربہ کر کے ایک نئی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے، جس کو دریافت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سائنس داں ایک باریک برتن کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس برتن کے اوپر ایک ڈھکن تھا اور برتن میں پانی بھرا ہوا تھا۔ برتن کے نیچے آگ جل رہی تھی۔ پانی کا درجہ حرارت جب
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues