Al-Risala · April 2011 · page 38

سیکولر سو یلائزیشن، اِسپر یچول سو یلائزیشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸

100 ڈگری تک پہنچ گیا تو اس کے اندر پیدا ہونے والی بھاپ سے ڈھکن اوپر اٹھ گیا۔ سائنس داں اس پر غور کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے دریافت کیا کہ پانی کا درجہ حرارت جب بڑھتا ہے تو اس کے مالکیول (molecule) ٹوٹ کر ادھر ادھر اڑنے لگتے ہیں ۔ مالکیول کے اس انتشار (molecular disintegration) سے اسٹیم پاور پیدا ہوتا ہے۔ اس پاور کے ذریعے انجن چلائے جاسکتے ہیں ۔ پانی کی یہ خاصیت پہلے سے اس کے لاشعور میں موجود تھی ۔ مذکورہ مشاہدہ اس کے لاشعور سے مطابقت کر گیا۔ مطابقت کے نتیجے میں انسان نے وہ چیز دریافت کی جس کو اسٹیم پاور (steam power) کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دریافتیں کو انسڈینیس کا نتیجہ ہوتی ہیں: Discoveries are results of co-incidence. حصول معرفت کا ذریعہ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ معرفت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود پر سوچتا ہے، وہ کائنات کے مظاہر میں غور وفکر کرتا ہے۔ اس طرح غور و فکر کے ذریعے وہ رموز معرفت کو دریافت کرتا ہے۔ ان رموز معرفت میں پچاس فی صد حصہ خارجی مظاہر کا ہے، اور پچاس فی صد حصہ داخلی اعتبار سے علم اشیا کا۔ یہی وہ علم اشیا ہے جس کو وجدان (intuition) کہا جاتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ آدمی دونوں کے درمیان مطابقت کو دریافت کرتا ہے۔ یہ واقعہ مسلسل پیش آتا ہے اور اس طرح مومن کا سفر معرفت مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔

معرفت کا حصول کوئی پر اسرار چیز نہیں، وہ تخلیق میں تدبر کر کے خالق کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ یہ عمل اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں میں ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہو گیا تھا۔ قرآن کے ذریعے ان کے اندر تحریک ہوئی اور وہ کائنات کی چیزوں میں معرفت کے نقطۂ نظر سے غور وفکر کرنے لگے۔ مثال کے طور پر ایک صحابی رسول ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ: ولقد تر کنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، و ما يقلّب طائر جناحيه في السماء، إلا ذكر لنا منه علماً (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 131) یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page