Al-Risala · April 2011 · page 39

ایک مغالطہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

ایک چڑیا بھی آسمان میں اپنا پر پھڑپھڑاتی تھی تو آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔ تخلیق کے نظام میں غور وفکر کر کے معرفت کی خوراک حاصل کرنے کا کام مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر شروع ہوا اور صدیوں تک جاری رہا۔ علم کلام میں جس چیز کو مبنی بر براہیں استدلال کہا جاتا ہے، وہ یہی ہے۔ مگر مسلمان علم معرفت یا سائنس آف معرفت کو ایک حد سے آگے نہ بڑھا سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں غور وفکر کے لیے صرف روایتی فریم ورک (traditional framework) موجود تھا، اور روایتی فریم ورک میں مشاہدہ اور تجربہ کا عمل صرف محدود دائرے میں ممکن ہوتا تھا۔ اس معاملے میں زیادہ وسیع غور وفکر صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا، جب کہ دور بین (telescope) اور خوردبین (microscope) جیسے آلات ایجاد ہوئے۔ دور بین کو پہلی بار گیلیو نے 1609 میں فلکیاتی مشاہدے کے لیے استعمال کیا۔ خوردبین پہلی بار 1590 میں دریافت ہوئی۔ ان دریافتوں کے بعد عالم کبیر (macro world) اور عالم صغیر (micro world) دونوں کا مشاہدہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ممکن ہو گیا۔ معرفت کے حقائق جو اب تک انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے، وہ اب انسان کے براہ راست علم میں آنے لگے۔ بعد کے دور میں یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مغربی علماء کے ذریعے فطرت کی تحقیقات سامنے آئیں، انھوں نے معرفت خداوندی کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئے۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ پہلے جو چیز صرف عقیدہ کا درجہ رکھتی تھی، وہ اب علمی مسلمہ کے درجے میں ایک ثابت شدہ واقعہ بن گئی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج)۔ مغربی سائنس دانوں نے موجودہ زمانے میں جو کام کیا، وہ علم معرفت کے اعتبار سے بہت بڑا کام تھا۔ اس اعتبار سے، یہ مغربی علماء پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کا مصداق تھے: إن الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر۔

ایک مغالطہ

جدید سائنس کی دریافتیں دراصل آلاء اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page