ایک مغالطہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰
وہ خالق کی معرفت کا ایک نیا خزانہ کھولنے کے ہم معنی تھیں۔ لیکن جن مغربی علماء نے اس میدان میں کام کیا، وہ سب سیکولر ذہن کے لوگ تھے۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوا کہ یہ دریافتیں معرفتِ رب کے بجائے سیکولر نظریے کی حمایت بن کر رہ گئیں۔ حالاں کہ سائنس کا یہ سیکولرائزیشن (secularization) صرف ایک مغالطہ (fallacy) کی حیثیت رکھتا تھا۔
مثلاً ایک مغربی مفکر نے جدید سائنس کی دریافتوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان دریافتوں سے معلوم ہوا کہ فطرت (nature) میں ایک قانونِ اسباب (law of causation) قائم ہے، یعنی ہر واقعہ اسباب وعلل کے نظام کے تحت واقع ہوتا ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نے لکھا ہے کہ۔ اگر واقعات فطری اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے: If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے، کیوں کہ فطرت کا قانون اپنے آپ میں تو توجیہہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اس اعتبار سے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ۔ اگر واقعات قوانین سے کنٹرول ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کا ایک کنٹرول کرنے والا ہو: If events are controled by laws, then there must be a controller of laws. جرمن سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے فطرت کے نظام کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس کو نظر آیا کہ فطرت کے نظام میں نہایت بامعنی ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اس طرح وہ گویا کہ معرفت کے دروازے تک پہنچ گیا، لیکن اس نے یہ کہہ دیا کہ ۔ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے:
The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. یہ بلاشبہ ایک مغالطہ آمیز بیان ہے۔ آئن اسٹائن نے جب فطرت میں غیر معمولی معنویت
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues