ایک مغالطہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱
دیکھیے تو اس کو برعکس طور پر یہ کہنا چاہیے تھا کہ فطرت میں اتنی زیادہ معنویت پائی جاتی ہے کہ ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈیزائنر ہو:
Nature is so well-designed that it is inconceivable that there is no designer of it. جنت کا دور قرآن کی سورہ الکہف کی آخری چند آیتیں یہ ہیں: إن الذين امنوا وعملوا الصالحات كانت لهم جنات الفردوس نزلاً۔ خالدين فيها لا يبغون فيها حولاً۔ قل لو كان البحر مداداً لكلمات ربي، لنفد البحر قبل أن تنفد كلمات ربي، ولو جئنا بمثله مدداً (107-109: 18) یعنی بے شک جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے، تو سمندر ختم ہو جائے گا، اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگر چہ ہم ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد کے لیے لے آئیں۔ قرآن کی ان آیات کے چار حصے ہیں۔ اس کے پہلے حصہ (إن الذين امنوا وعملوا الصالحات) میں یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیقی منصوبہ کے مطابق، خدا کا مطلوب انسان کون ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو خالق کو دریافت کرے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ اس کی پوری زندگی ہر اعتبار سے اس کے مطابق ڈھل جائے، وہ کامل معنوں میں ایک ربانی انسان بن جائے۔ یہی وہ ربانی انسان ہے جو آخرت کی دنیا میں خدا کے سب سے بڑے انعام کا مستحق قرار پائے گا۔
آیت کا دوسرا حصہ یہ ہے: كانت لهم جنات الفردوس نزلاً۔ اس حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ربانی انسان کو آخرت میں یہ موقع ملے گا کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر قیام کر سکے۔ جنت کی دنیا میں یہ قیام مہمانی (hospitality) کے طور پر ہوگا، یعنی جنت میں ان ربانی انسانوں کا قیام سادہ طور پر صرف عیش کے لیے نہ ہوگا، بلکہ وہ مہمانی کے طور پر ہوگا۔ یعنی خدائی منصوبہ کے مطابق، اہل جنت مکمل طور پر ایک سرگرم زندگی گزاریں گے۔ یہ زندگی ان کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues