Al-Risala · April 2011 · page 42

اہل جنت کا مشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۴۲

لیے پوری طرح تعب اور مشقت سے خالی ہوگی۔ وہ اُن کے لیے شغلِ فا کہ (55:35) کے ہم معنی ہوگی، یعنی پر لطف سرگرمیوں (enjoyable activities) کی زندگی۔

اس جنتی زندگی کے بارے میں تیسری بات یہ فرمائی کہ: خالدين فيها، لا يبغون عنها حولاً۔ یعنی اس میں ہمیشہ رہنے کے باوجود اہل جنت کبھی اکتاہٹ (boredom) کا شکار نہ ہوں گے۔ وہ دوامی طور پر انتہائی معنوں میں ایک پر لطف مشغولیت کے ساتھ جنت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ یہ سرگرمیاں کبھی ختم نہ ہوں گی اور نہ کبھی ان کی دل چسپیوں کی حد آئے گی۔ یہ اہل جنت کے لیے ایک ایسی مسرت ہوگی جو کامل بھی ہوگی اور ابدی بھی۔

مذکورہ قرآنی بیان کا چوتھا حصہ یہ ہے: قل لو كان البحر مداداً لكلمات ربي، لنفد البحر قبل أن تنفد كلمات ربي، ولو جئنا بمثله مدداً۔ قرآن کے یہ الفاظ اہل جنت کی اُس اعلیٰ ترین سرگرمی کو بتاتے ہیں جس میں اہل جنت کامل لذت ومسرت کے ساتھ مشغول رہیں گے۔ یہ سرگرمی ہے۔ کلمات اللہ کی دریافت (discover) کرنا اور اس طرح اعلیٰ معرفت کے حصول کے لامناہی سفر میں مشغول رہنا۔

انسان کے لیے سب سے زیادہ محبوب چیز یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں، اس کو پورا فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہو۔ اس کو انسان کی زندگی کا مادی تقاضا کہہ سکتے ہیں۔ یہ تمام تقاضے جنت میں انتہائی کامل اور آئیڈیل صورت میں پورے ہوں گے۔ قرآن میں اسی کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: ولكم فيها ما تشتهي أنفسكم، ولكم فيها ما تدعون (41:31) یعنی تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے، اور تمھارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرو گے۔

اہل جنت کا مشن

دوسری اعلیٰ چیز جو ربانی انسان کو جنت میں مشن کی صورت میں حاصل ہوگی، وہ معرفت کی مسلسل دریافت ہے۔ یہ معرفت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مختلف الفاظ میں مثلاً کلمات اللہ (18: 109)،

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page