Al-Risala · April 2011 · page 43

اہل جنت کا مشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۴۳

آلاء رب (130:55) اور آیات رب (53:41)، وغیرہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس خالق نے یہ انتہائی بامعنی کائنات بنائی ہے، وہ خود بلاشبہ ہزاروں لاکھوں کائنات سے زیادہ بامعنی ہے۔ اس کی معنویت کا ایک بہت چھوٹا حصہ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے۔ مگر سائنس دانوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کی دریافتیں اتنی زیادہ حقیر ہیں کہ وہ کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے (knowing more and more about less and less) کے ہم معنی ہیں۔ ایسے لامحدود حد تک بامعنی خالق کی دریافت بیک وقت ایک انتہائی پر مسرت تجربہ ہے اور اسی کے ساتھ وہ ایک لامناہی عمل بھی۔ یہی وہ پر مسرت مشن ہے جس میں اہل جنت ہمیشہ کے لیے پر مسرت طور پر مشغول رہیں گے۔ انسان اصلأ ذہن (mind) کا نام ہے۔ ذہن سوچنے کا کام کرتا ہے۔ ذہن کے اندر سوچنے کی صلاحیت (thinking capacity) لامحدود حد تک پائی جاتی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا کہ پوری کائنات میں جتنے پارٹیکل (particle) ہیں، اتنے پارٹیکل صرف ایک فرد کے ذہن (individual brain) میں ہوتے ہیں۔ انسان کا ذہن لامحدود ہے، اس کے مقابلے میں انسان کی عمر بہت زیادہ محدود ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے ذہنی فل فل مینٹ (intellectual fulfilment) حاصل ہونا ممکن نہیں، جب کہ ذہنی فل فل مینٹ ہی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی خوشی (pleasure) کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کو استعمال کر کے سوچے اور نئی نئی دریافتیں کرے۔ دریافت (discovery) انسان کی سب سے بڑی لذت ہے اور یہی لذت انسان کو اس دنیا میں حاصل نہیں ہوتی۔

خدا کا تخلیقی منصوبہ اس سوال کا جواب ہے۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ بتاتا ہے کہ انسان کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ موت کے بعد ابدی طور پر جاری رہتی ہے۔ موت کے بعد کی یہ دنیا نہ صرف ابدی ہے، بلکہ وہ معیاری اور کامل بھی ہے۔ اس اگلی دنیا میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ اپنے ذہن کے پوٹینشل کو ان فولڈ (unfold) کرے، وہ اپنی تخلیقیت (creativity) کو ابدی طور پر جاری رکھے۔ وہ مسلسل طور پر وجد آمیز دریافتوں (thrilling discoveries) کی فضا میں جیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page