Man is a paradise-seeking animal.
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴
یہ ابدی موقع انسان کو آخرت کی جنت میں ملے گا۔ جنت سادہ طور پر عیش کا مقام نہیں ہے۔ جنت کا زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ جنت کی آفاقی وسعتوں میں وہ تمام اسباب انتہائی معیاری صورت میں موجود ہوں گے جو دنیا میں صرف ناقص صورت میں ملے تھے۔ قرآن کے مطابق، دنیا میں انسان کو سب چیزیں دی گئی ہیں، لیکن وہ سب بقَدَرِ ضرورت ہیں (واتاكم من كل ما سألتموه) لیکن آخرت میں یہ تمام چیزیں بقَدْرِ خواہش دی جائیں گی (ولكم فيها ما تشتهی انفسکم)۔ انسان پیدائشی طور پر معیار پسند (idealist) ہے۔ ہر عورت اور مرد اپنی فطرت کے اعتبار سے کامل پسند (perfectionist) ہوتے ہیں، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں اپنے آئیڈیل کو نہیں پاتا۔ ہر انسان ایک ایسی چیز کا متلاشی ہے جو موجودہ دنیا میں اُس کے لیے آخری حد تک ناقابلِ حصول ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ہر انسان ایک متلاشی جنت حیوان ہے:
Man is a paradise-seeking animal.
یہ جنت انسان کو صرف آخرت میں ملے گی، اٗس انسان کو جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کا استحقاق ثابت کرے۔ موجودہ دنیا جنت کا استحقاق ثابت کرنے کے لیے ہے اور آخرت عملی طور پر جنت کو پانے کے لیے۔
الصالحون کا دور
قرآن کی سورہ الانبیاء میں بعد کے زمانے کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون (105 :21) یعنی زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ یہ پیشین گوئی موجودہ بائبل میں ان الفاظ میں ملتی ہے ۔ شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی اور صادق، زمین کے وارث ہوں گے۔ وہ اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے:
But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land, and dwelll in it forever. (Psalm 37: 28-29) قرآن کی مذکورہ آیت میں ’الصالحون‘ سے مراد پوری تاریخِ بشری کے منتخب مومنین
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues