الصالحون کا دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۴۵
(selected believers) ہیں۔ یہ واقعہ قیامت کے بعد آخرت کی دنیا میں پیش آئے گا۔ قیامت کے بعد تمام پیدا ہونے والے انسان حشر کے میدان میں اکٹھا کئے جائیں گے۔ خداوند ذوالجلال اور اس کے فرشتے ظاہر ہوں گے۔ قبل از قیامت دور میں ہر ایک کے عمل کے ریکارڈ کے مطابق، اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کچھ لوگ رد کئے ہوئے (rejected) قرار پائیں گے، کچھ لوگوں کو ان کے قول وعمل کے بہتر ریکارڈ کی بنا پر منتخب کیا جائے گا۔ یہ منتخب لوگ ابدی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، جو ہر اعتبار سے ایک کامل دنیا (perfect world) ہوگی۔ اس جنتی دنیا میں ابدی طور پر خوف وحزن کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ یہاں داخل ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لیے ہر اعتبار سے، کامل طور پر فل فل منٹ (fulfillment) کا انتظام ہوگا۔
قیامت کے بعد کا جنتی دور ایک آئیڈیل دور ہوگا۔ یہ انسان کی وہ آخری منزل ہوگی جس کے لیے موجودہ دنیا کی تخلیق کی گئی تھی۔ موجودہ دنیا کو بنانا اور یہاں انسان کو آباد کرنا امتحان کے لیے تھا، یعنی عملی زندگی میں امتحان لے کر اُن نادر افراد کا انتخاب کرنا جو اعلیٰ معرفت کی سطح پر جینے والے ہوں، جو مکمل طور پر مثبت شخصیت (positive personality) کے مالک ہوں، جو اختیار کے باوجود مکمل طور پر ربانی ڈسپلن کے پابند ہوں، جو اپنے اعلیٰ اوصاف کی بنا پر اس قابل ہوں کہ وہ خدا کے پڑوس میں رہ سکیں، جو اپنی تخلیق کے اعتبار سے انسان، مگر اپنے اوصاف کے اعتبار سے فرشتوں کے مانند ہوں، جو پوری کائنات کا خلاصہ ہوں، جس طرح گلاب کا پھول ایک پورے درخت کا خلاصہ ہوتا ہے۔ یہ خوش قسمت لوگ ابدی جنت میں رہیں گے، لیکن جنت محض عیش و آرام کا مقام نہیں ہوگا، بلکہ وہ کامل معنوں میں نفیس سرگرمیوں کا مقام ہوگا۔ جنت میں عیش و آرام کی حیثیت دراصل خدائی میزبان (divine hospitality) کی ہوگی۔ اہلِ جنت کا اصل مشن وہ ہوگا جس کو قرآن میں : وأشرقت الأرض بنور ربها (69: 39)، اور وقيل الحمد لله رب العالمين (75: 39) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی یہ اہلِ جنت اپنی سرگرمیوں کے ذریعے انوارِ رب کو ظاہر کرنے کا ابدی پر اس شروع کریں گے۔ جنت کی دنیا میں الحمد للہ کلچر اپنی کامل صورت میں ظہور پذیر ہوگا۔ اہلِ جنت کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues