Al-Risala · May 2011 · page 13

وضو اور قرآن

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳

وضو اور قرآن

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے۔ مگر یہ مسئلہ قرآن کی کسی آیت یا حدیث کی روایت سے ثابت نہیں۔ اس مسئلے کے حق میں کوئی بھی نص شرعی موجود نہیں۔ اس سلسلے میں جو حوالے دیے جاتے ہیں، وہ سب کے سب استنباط پر مبنی ہیں، نہ کہ کسی نص قطعی پر۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے وضو کی شرط لگانا، قرآن کے احترام میں غلو کی بنا پر ہے، اور دین میں غلو کا کوئی درجہ نہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لاغلو فی الإسلام۔ اس نقطۂ نظر کی تائید میں قرآن کی سورہ الواقعہ کی ایک آیت کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے: اِنَّہ لقرآن کریم ، فی کتاب مکنون، لا یمسّه اِلَّا المطهرون۔ تنزیل من ربّ العالمین (56: 77-80) یعنی یہ ایک با عزت قرآن ہے، ایک محفوظ کتاب میں۔ اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اتارا ہوا ہے پروردگارِ عالم کی طرف سے۔

قرآن کی اس آیت کا کوئی تعلق وضو کے مسئلے سے نہیں۔ اس آیت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کی تنزیل کا عمل فرشتوں کے ذریعے ہوتا ہے، اور فرشتے ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو خدا نے پیدائشی طور پر طاہر بنایا ہے۔ اس آیت میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ مُطَہَّر ہے، نہ کہ متوضأ، یعنی پاکیزہ نہ کہ باوضو۔ مُطَہَّر کا لفظ قرآن میں دوسرے مقام پر ازواجِ جنت کے لیے آیا ہے (25: 2)۔ وہاں بھی یہ مراد نہیں ہے کہ یہ ازواج ہمیشہ باوضو ہوں گی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اُن کو پیدائشی طور پر پاکیزہ اور طاہر بنایا ہوگا: ومطہرۃ للإشعار بأن الله طهر هن (التفسیر المظہری 1/40) قرآن کے الفاظ کے مطابق، قرآن کو وہ مخلوق چھوتی ہے جو خود اپنی تخلیق کے اعتبار سے پاکیزہ ہے، جس کو خالق نے پیدائشی طور پر پاک بنایا ہے، یہ مخلوق بلاشبہ فرشتے ہیں۔ وہ قرآن کو اللہ سے لیتے ہیں اور پیغمبر تک پہنچاتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ سے یہ نہیں نکلتا کہ قرآن کو اللہ سے لینے سے پہلے فرشتے وضو کر لیتے ہیں۔ فرشتے اپنی اصل تخلیق کے اعتبار ہی سے مکمل طور پر پاکیزه ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page