Al-Risala · May 2011 · page 14

وضو اور قرآن

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴

اس سلسلے میں دوسرا استدلال اُس واقعے سے کیا جاتا ہے جو روایات میں حضرت عمر بن الخطاب کے اسلام کے بارے میں آیا ہے۔ یہ ایک لمبی روایت ہے۔ اس کا ایک جز یہ ہے کہ عمر بن الخطاب کو معلوم ہوا کہ ان کی بہن فاطمہ اور ان کے شوہر سعید بن زید نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اُس وقت تک عمر بن الخطاب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ عمر بن الخطاب اپنی بہن کے گھر گئے اور دونوں کو اتنا مارا کہ وہ خون آلود ہو گئے۔ خون کو دیکھ کر عمر بن الخطاب کے اندر ندامت پیدا ہوئی۔ انھوں نے اپنی بہن سے کہا کہ مجھے وہ قرآن دکھاؤ جو محمد پر اترا ہے۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فقالت فاطمة: يا أخي، إنك نجس على شركك، وإنه لا يمسه إلا المطهرون۔

فقام عمر فاغتسل، فأعطته الصحيفة (السيرة النبوية لابن كثير 2/35) یعنی فاطمہ نے کہا کہ اے میرے بھائی، تم اپنے شرک کی بنا پر نجس ہو، اور قرآن کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھوتے ہیں۔ چناں چہ عمر بن الخطاب اٹھے اور انھوں نے غسل کیا، پھر فاطمہ نے اُن کو صحیفہ (قرآن) دیا۔ اس روایت سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن کو چھونے سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے۔ اس روایت سے اگر کوئی چیز نکلتی ہے تو وہ یہ کہ قرآن کو چھونے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے۔ ایسی حالت میں بیان کرنے والوں کو یہ مسئلہ بیان کرنا چاہیے کہ قرآن کو چھونے سے پہلے غسل کرو، غسل کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اس روایت کے مطابق، فاطمہ نے عمر بن الخطاب کے ہاتھ میں قرآن کا صحیفہ اُس وقت دیا جب کہ ابھی وہ شرک پر قائم ہونے کی بنا پر نجس تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شرک کا خاتمہ غسل سے نہیں ہوتا، بلکہ وہ تو بہ اور کلمۂ شہادت کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس واقعے سے وضو کا مسئلہ نکالنا سر تا سر ایک غیر متعلق (irrelevant) بات کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب کا ایک اور واقعہ روایات میں اس طرح آیا ہے۔ عمر بن الخطاب ایک بار ایک جماعت کے ساتھ تھے جو کہ ایک صحیفہ کے ذریعہ قرآن کو پڑھ رہے تھے۔ اس درمیان عمر قضاء حاجت کے لیے گئے، پھر وہ واپس آئے اور انھوں نے دوبارہ قرآن کو پڑھنا شروع کیا۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ آپ قرآن پڑھ رہے ہیں، حالاں کہ آپ باوضو نہیں ہیں۔ عمر بن الخطاب نے کہا: مَــــــنْ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page