Al-Risala · May 2011 · page 29

غلو کی ایک مثال

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹

اس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا، تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمران کو لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ امیر کبیر اور ان کے ساتھی ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پرامن طور پر وہ یہاں کے باشندوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا، اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اس طرح صبر و برداشت کی زندگی گزارتے ہوئے انھوں نے اپنے پُر امن دعوتی مشن کو جاری رکھا۔

کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کشمیر میں آپ لوگ شاہِ ہمدان کے پرامن دعوتی مشن کو زندہ کریں۔ شاہِ ہمدان کو کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے دعوت کو اپنا واحد مشن بنایا۔ اُن کے زمانے میں مختلف قسم کے مسائل کشمیر میں موجود تھے، لیکن انھوں نے ان مسائل کو نظر انداز کیا اور دعوت الی اللہ کو اپنا واحد نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں اُنھیں کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ مذکورہ کشمیری مسلمان نے کہا کہ شاہِ ہمدان کے زمانے میں، کشمیر میں بڑی تعداد میں غیر مسلم پائے جاتے تھے۔ آج تو یہاں سب کے سب مسلمان ہیں، پھر ہم کن لوگوں کے اوپر دعوتی کام کریں۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں انٹرنیشنل دعوہ ورک کے مواقع پائے جاتے ہیں۔ انڈیا کی آرمی جو بڑی تعداد میں کشمیر میں موجود ہے، اس کا ہر فرد آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے، اس لیے ساری دنیا کے سیاح (tourists) کشمیر میں مسلسل آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کشمیر میں اب بھی ہندوؤں کی ایک تعداد موجود ہے، جن کو کشمیر میں پنڈت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں کے قدیم مندروں میں ہر سال بڑی تعداد میں یاتری آتے ہیں۔ یہ سارے لوگ آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ لوگوں کے اندر اگر دعوتی شعور پیدا ہو جائے تو آپ دیکھیں گے کہ کشمیر میں ہر طرف بڑی تعداد میں مدعو پائے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ کشمیر میں دعوت کا ایک اور میدان کھلا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page