تعارف قرآن
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳
حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی تنبیہ کی ایک کتاب ہے۔ وہ اسباق اور نصیحت کا ایک مجموعہ ہے، عام طرزِ تصنیف کے مطابق تیار نہیں ہوا۔ زیادہ صحیح طور پر قرآن ایک بک آف وزڈم ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ قرآن کو پڑھنے والا اگر قرآن کا صرف ایک صفحہ پڑھے، یا وہ اُس کا صرف ایک جملہ سنے تب بھی اُس کو اُس میں ایک مسیج مل جائے۔
قرآن ایک اعتبار سے، مُنعم کی طرف سے انعام کی یاد دہانی ہے۔ خدا نے انسان کو استثنائی اوصاف کے ساتھ پیدا کیا۔ پھر اُس کو زمین جیسے سیارے پر بسایا، جہاں انسان کے لیے ہر قسم کا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ انسان، فطرت کے ان انعامات سے استفادہ کرتے ہوئے مُنعم کو یاد رکھے۔ وہ انعامات کے خالق کا اعتراف کرے۔ انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کا اعتراف کرنا اور اُس کے تقاضے پورے کرنا، یہی ابدی جنت کا سرٹیفکٹ ہے۔ اور انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کو فراموش کر دینا، آدمی کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ قرآن در اصل اسی سب سے بڑی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔
قرآن کا اسلوبِ بیان بھی ایک منفرد اسلوب بیان ہے۔ قرآن کے اسلوبِ کلام کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اُس کا اسلوب ایک شاہانہ اسلوب ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کا مصنف ایک ایسے برتر مقام پر ہے جہاں سے وہ ساری انسانیت کو دیکھ رہا ہے۔ ساری انسانیت اُس کا کَنسرن ہے۔ وہ اپنے مقامِ عظمت سے پوری انسانیت کو خطاب کر رہا ہے۔ البتہ اس خطاب کے دوران اُس کا رخ کبھی ایک گروہ کی طرف مڑ جاتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کی طرف۔ قرآن کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اُس کا قاری کسی بھی لمحہ اُس کے مصنف سے کنسلٹ کر سکتا ہے۔ قرآن کا مصنف خدا ہے۔ وہ ایک زندہ خدا ہے۔ وہ سارے انسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ براہِ راست طور پر ہر انسان کی بات کو سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے۔ اس لیے قرآن کے قاری کے لیے ہر لمحہ یہ ممکن ہے کہ وہ خدا سے ربط قائم کر سکے۔ وہ خدا سے پوچھے اور خدا سے اپنے سوال کا جواب پالے۔ قرآن خالقِ کائنات کا تعارف ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اس کائنات کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues