Al-Risala · January 2011 · page 24

تعارف قرآن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴

پیدا کیا۔ وہی اُس کو مسلسل طور پر سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ انسان کا ماضی، حال اور مستقبل تنہا اُسی کے قبضے میں ہے۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ابدی ہے۔ اس کے قبضے‘ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔

خالق کے تعارف کے بعد قرآن میں خصوصی طور پر جو چیز بتائی گئی ہے، وہ خدا کی تخلیق کے بارے میں ہے۔ قرآن کا موضوع یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے انسان کو باخبر کرے۔ قرآن، آدمی کو وہ چیز بتاتا ہے جس کو وہ اپنی کوشش سے نہیں جان سکتا تھا۔ قرآن آدمی کے ان بنیادی سوالات کا جواب دیتا ہے کہ ــــ میں کون ہوں، میری پیدائش کا مقصد کیا ہے، اس دنیا سے میرے تعلق کی نوعیت کیا ہے جہاں میں اپنے آپ کو پاتا ہوں، زندگی کیا ہے، اور موت کیا۔ موت سے پہلے مجھے کیا کرنا ہے، اور موت کے بعد میرے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ وہ کیا روش ہے جو مجھ کو نا کام بناتی ہے، اور وہ کیا روش ہے جو مجھ کو کامیابی عطا کرتی ہے۔ ان سوالات کا تعلق خدا کے تخلیقی پلان سے ہے، اور قرآن کا مقصد یہی ہے کہ وہ انسان کو خدا کے اس تخلیقی پلان سے آگاہ کرے۔ اس اعتبار سے، پیغمبر کا تعلق براہ راست طور پر قرآن سے جُڑا ہوا ہے۔ پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آئی ہوئی کتاب کو پوری امانت کے ساتھ انسان تک پہنچا دیتا ہے۔ پھر پیغمبر یہ کرتا ہے کہ وہ خدا کی رہ نمائی میں لوگوں کے درمیان اپنی پوری زندگی اس طرح گزارتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قرآن کا ایک عملی مظاہرہ (demonstration) بن جاتا ہے۔ قرآن اگر آئیڈیالوجی کی کتاب ہے تو پیغمبر اس آئیڈیالوجی کی ایک عملی تصویر ہے۔ قرآن کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی قرآن کو پڑھنے کے ساتھ، پیغمبر کے کلام اور پیغمبر کی زندگی کا مطالعہ کرے ۔

قرآن کے بیان کے مطابق، انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ مگر انسان کی زندگی کو دو مختلف دوروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ــــ موت سے پہلے کا دور اور موت کے بعد کا دور ــــ موت کے پہلے کا دور عمل کا دور ہے، اور موت کے بعد کا دور اپنے عمل کا انجام پانے کا دور۔

موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر آزاد پاتا ہے۔ مگر یہ آزادی برائے انعام

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page