Al-Risala · January 2011 · page 25

تعارف قرآن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵

نہیں ہے، بلکہ وہ برائے امتحان ہے۔ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں انسان کو آزادی دے کر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اپنی آزادی کو صحیح طور پر استعمال کرنا، گویا خود سے اپنے آپ کو خدائی ڈسپلن میں رکھنا ہے۔ ایسے لوگ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے، اور جو لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کریں، وہ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ جنت، ابدی راحتوں کی جگہ ہے، اور جہنم، ابدی مصیبتوں کی جگہ۔

موجودہ دنیا انسان کے لیے ایک بے حد موافق دنیا ہے، یہاں کامل طور پر اُس چیز کا انتظام کیا گیا ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ مگر قرآن کے مطابق، یہ دنیا ہمیشہ اسی طرح رہنے والی نہیں۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ دنیا کے خالق نے جس طرح ہر عورت اور مرد کی ایک عمر مقرر کر دی ہے، اسی طرح اس دنیا کی بھی ایک مقرر عمر ہے۔ یہ سیارۂ زمین اور یہ شمسی نظام ہمیشہ اسی طرح رہنے والے نہیں۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ خدائی عمل کے مطابق، جب مقرر مدت پوری ہوگی تو اس دنیا کو اور اس کے پورے نظام کو توڑ دیا جائے گا۔ اس کے بعد، خدا اپنی قدرت سے ایک اور دنیا بنائے گا۔ یہ دوسری دنیا ایک کامل اور ابدی دنیا ہوگی۔ اس دوسری دنیا کے قوانین موجودہ دنیا سے مختلف ہوں گے۔

موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی ملی ہوئی ہے، لیکن اگلی دنیا براہِ راست خدا کے کنٹرول میں ہوگی۔ اس دوسری دنیا میں خدا عدل (justice) کو مکمل طور پر قائم کرے گا۔ اس دوسری دنیا میں وہ تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیںگی جو موجودہ دنیا میں مصلحتِ امتحان کی بنا پر چھپی ہوئی تھیں۔ جو لوگ قرآن کے ذریعے سچائی کو دریافت کریں، اُن کو قرآن عمل کا دو نکاتی پروگرام دیتا ہے— اپنی زندگی میں خدا کی ہدایت کی کامل پیروی، اور دوسرے انسانوں کو اس معلوم خدائی ہدایت سے باخبر کرنا۔ خدائی ہدایت کی پیروی کا آغاز معرفت یا خدائی حقیقت کی دریافت سے ہوتا ہے۔ ایک آدمی جب قرآن کے ذریعے سچائی کو دریافت کرتا ہے تو اُس کے اندر ایک ذہنی انقلاب برپا ہوتا ہے۔ اس کی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page