Al-Risala · January 2011 · page 26

تعارف قرآن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶

سوچ بدل جاتی ہے۔ اس کے چاہنے اور نہ چاہنے کا معیار تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی اندر سے باہر تک ایک نئے ربانی نقشے میں ڈھل جاتی ہے۔

معرفتِ خداوندی کا یہ اظہار جن صورتوں میں ہوتا ہے، اُس کو ذکر اور عبادت اور اخلاق حسنہ اور متقیانہ زندگی جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سچائی کی دریافت کوئی میکانیکل دریافت نہیں ہے، سچائی کی دریافت حقیقتِ حیات کی دریافت ہے۔ اور جس انسان کو زندگی کی حقیقت معلوم ہو جائے، وہ خود اپنی فطرت کے زور پر ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ سچائی کی دریافت کسی انسان کے لیے ایک جنم کے بعد دوسرا جنم لینا ہے۔ یہ نیا جنم ایک ایسے نمو پذیر درخت کے مانند ہے جو ہمیشہ بڑھتا رہے، جس کی ترقی کا سفر کبھی ختم نہ ہو۔

قرآن کے ذریعے جو لوگ سچائی کو دریافت کریں، ان کے عملی پروگرام کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے، یعنی خدائی سچائی سے دوسروں کو باخبر کرنا۔ یہ دعوتی عمل ایک بے حد سنجیدہ عمل ہے۔ وہ کامل ڈیڈی کیشن کا طالب ہے۔ اسی پہلو سے اس کو جہاد بھی کہا گیا ہے۔ قرآن میں مومنین قرآن کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ: وجاهدهم به جهاداً كبيرا (25: 52) یعنی قرآن کے ذریعے تم دوسروں سے جہادِ کبیر کرو۔

قرآن کے مطابق، جہاد کامل طور پر ایک غیر سیاسی عمل ہے۔ جہاد ایک ایسا عمل ہے جو شروع سے آخر تک کامل طور پر پر امن طریقے سے انجام دیا جاتا ہے۔ دعوتی جہاد کا نشانہ انسان کے دل کو اور اس کے دماغ کو بدلنا ہے۔ اور دل ودماغ میں تبدیلی صرف پر امن تبلیغ کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ کسی قسم کے جبر یا تشدد کے ذریعے۔

قرآن کی کچھ آیتوں میں قتال (جنگ) کا حکم بھی آیا ہے۔ تاہم قرآن کے مطابق، جنگ کی صرف ایک ہی جائز صورت ہے اور وہ دفاع کی صورت ہے۔ دفاع (defence) کے سوا، کسی بھی دوسرے سبب کی بنا پر جنگ کرنا جائز نہیں۔ قرآن کے مطابق، زندگی میں امن کی حیثیت ایک عموم (rule) کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف ایک نادر استثنا (rare exception) کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page