Al-Risala · June 2011 · page 17

خالق کی بے پناہ عظمت

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷

ہے۔ محبت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک دریافت کا نتیجہ ہے، وہ محض ایک حکم کی تعمیل نہیں۔ انسان جب اپنے آپ کو احسنِ تقویم (95: 4) کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے ساتھ تکریم (70: 17) کا معاملہ کیا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے لیے زمین اور آسمان کو مسخر کر دیا ہے، جب وہ ان بے شمار نعمتوں کو دریافت کرتا ہے جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے، جب وہ اللہ کے اس احسان کو دریافت کرتا ہے کہ اُس نے پیغمبر کے ذریعے اس کی ہدایت کا انتظام فرمایا، جب کہ وہ اس سے پوری طرح بے خبر تھا، جب وہ کائناتی پیمانے پر اللہ کی تخلیق اور اس کی ربوبیت کو دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر کا بے پناہ جذبہ امنڈ پڑتا ہے۔ یہی شکر الہی محبت الہی کا منبع ہے۔ اِس سے انسان کے اندر وہ گہرا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں حب شدید کہا گیا ہے۔

اصل بات یہ نہیں ہے کہ محبت کرو، اصل بات یہ ہے کہ اللہ کو اتنے بڑے منعم کی حیثیت سے دریافت کرو کہ تمھارے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا ہو جائے۔

خالق کی بے پناہ عظمت

قرآن کی سورہ الرعد میں یہ آیت آئی ہے: الله الذي رفع السماوات بغير عمدِ ترونها (13:2) یعنی اللہ ہے جس نے آسمان کو بلند کیا بغیر ایسے ستون کے جو تمھیں نظر آئیں۔ اس آیت میں ایک عظیم کائناتی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت اتنی زیادہ عظیم ہے کہ اس کو سوچ کر آدمی کا دل دہل اٹھے اور اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔

قدیم روایتی زمانے میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ چیزیں کسی مادی سہارے پر قائم ہیں۔ مثلاً ستارے کسی آسمانی چھت سے لٹکائے گئے ہیں، اور زمین کسی مادی سہارے پر قائم ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں جب دوربین ایجاد ہوئی اور خلا (space) کا دور بینی مشاہدہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ساری کائنات ایک خلا میں ہے۔ کہکشائیں، شمسی نظام، ستارے اور سیارے، سب ایک اتھاہ خلا میں کسی سہارے کے بغیر گھوم رہے ہیں۔ یہ سارا معاملہ اتنے وسیع خلا میں ہورہا ہے کہ انتہائی طاقت ور

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page