خالق کی بے پناہ عظمت
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸
دوربینوں کے ذریعے بھی اُن کی حدوں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔
کسی سہارے کے بغیر قائم یہ کائناتی نظام اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کا صرف قیاس کیا جا سکتا ہے۔ وسیع کائنات کے بارے میں جو اندازے کئے گئے ہیں اور اس کے جو فوٹو حاصل کئے گئے ہیں، وہ اتنے زیادہ بڑے ہیں کہ اُن کے فاصلوں کو عام اِعداد کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا، چناں چہ اُن کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے: Light year: A unit of astronomical distance, equal to the distance that light travels in one year, approximately 6,000,000,000,000 miles. لامحدود خلا میں انتہائی وسیع کائنات کا معلق ہونا، خالق کی عظمت کا ناقابلِ بیان ثبوت ہے۔ جنت قریب، جنتِ بعید قرآن کی سورہ القمر میں اہل جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: اِنّ المتقین فی جنات ونہر، فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (54-55) یعنی بے شک اللہ سے ڈرنے والے لوگ باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے، بیٹھے ہوئے سچائی کی سیٹ پر، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ قرآن کی اس آیت اور دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے دو درجے ہیں— ایک، جنت قریب، اور دوسری، جنتِ بعید۔ جنت قریب، خدا کے پڑوس میں ہوگی۔ یہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اعلیٰ معرفت والے لوگ ہوں گے۔ جنتِ بعید سے مراد خدا کے پڑوس سے دور کی جنت ہے۔ اس جنت میں عام اہل ایمان کو جگہ ملے گی۔ عام اہل ایمان بھی جنت میں جگہ پائیں گے، لیکن ان کو جنتِ بعید میں جگہ ملے گی، نہ کہ جنتِ قریب میں۔
اعلیٰ معرفت والے لوگ وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: والذین امنوا اشد حبا لله (البقرة: (165) یعنی جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ محبت اللہ سے رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ اصحاب معرفت ہیں جنھوں نے اللہ کو ایسی برتر ہستی کے طور پر دریافت کیا جو کامل طور پر ان کے دل و دماغ پر چھا گیا۔ ان کی ساری محبتیں ایک اللہ کے لیے وقف ہو گئیں۔ اللہ وحدہ لا شریک ہی اُن کا سب سے بڑا اکسرن (supreme concern) بن گیا۔ اُن کی سوچ تمام تر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues