محبت الہی
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹
اللہ والی سوچ (God-oriented thinking) بن گئی۔
جن لوگوں کو اللہ سے محبت کے درجے کا تعلق ہو جائے، وہ اللہ کے حضور (presence) میں جینے لگتے ہیں۔ اُن کو دنیاہی میں اللہ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے۔
ایسے لوگوں کو دنیا میں یہ قربت (closeness) نفسیات کی سطح پر ملتی ہے، آخرت میں اُن کو قربت کا یہ تجربہ عملی سطح پر ہونے لگے گا۔ وہ دنیاہی کی زندگی میں خدا کی قربت کا تجربہ کر رہے تھے، آخرت میں اُنھیں قربت الہی کے مزید اعلیٰ درجات حاصل ہو جائیں گے۔
محبت الہی
قرآن کی سورہ البقرہ میں اہلِ ایمان کی ایک بنیادی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: والذین امنوا اشد حبا لله (165: 2) یعنی جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں اہلِ ایمان سے مراد اہل معرفت ہیں۔ جو شخص دریافت کے درجے میں خدا کو پائے، وہ ایک صاحبِ معرفت انسان بن جاتا ہے، اور جو انسان صاحبِ معرفت ہو، اس کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہو جائیں گے۔ خدا اس کے قلب و دماغ کا واحد مرکز بن جائے گا۔
انسان اپنی محدودیت (limitations) کی بنا پر موجودہ دنیا میں خدا کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ خدا کی رحمتوں (blessings) کا ہر آن تجربہ کرتا ہے، اور یہی تجربہ محبت الہی کا اصل سرچشمہ ہے۔ آدمی کو اس دنیا میں جو کچھ ملا ہوا، وہ سب کا سب خدا کی رحمت ہے۔ آدمی جتنا زیادہ ان ملی ہوئی چیزوں پر غور کرے گا، اتنا ہی زیادہ خدا کے ساتھ اس کی محبت بڑھتی چلی جائے گی۔ خدا سے محبت کا سرچشمہ انعام کی دریافت ہے، نہ کہ منعم کا مشاہدہ۔
انسان کو کس نے پیدا کیا، خدا نے۔ انسان کو مختلف قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کس نے دیں، خدا نے۔ انسان کے لیے زمین جیسا ایک استثنائی سیارہ کس نے بنایا، خدا نے۔ انسان کے لیے یہاں لائف سپورٹ سسٹم کس نے قائم کیا، خدا نے۔ انسان کی تمام حاجتوں کی تکمیل کا انتظام کس نے کیا، خدا نے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues