Al-Risala · June 2011 · page 20

محبت الہی

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۰

انسان کو وہ دماغ کس نے دیا جو زمین پر رہتے ہوئے ساری کائنات کا احاطہ کرسکتا ہے، خدا نے۔ اُنہیں تمام انعام (blessings) کے منعم (giver) کی دریافت کا نام معرفت ہے۔ کسی انسان کو جب یہ معرفت حقیقی معنوں میں حاصل ہوجائے تو اس کے اندر خدا سے محبت کا سر چشمہ اہل پڑتا ہے۔ اس کے دل کی گہرائیاں خدا کی محبت سے روشن ہو جاتی ہیں۔

خدا کی اطاعت بلا شبہ ایمان کا تقاضا ہے، لیکن یہ خدا سے محبت کی تصغیر (underestimation) ہے کہ اُس کو صرف اطاعت کے معنی میں لیا جائے ۔ اطاعت، خدا سے تعلق کا صرف ایک قانونی اظہار ہے، جب کہ محبت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود خدا کی یاد میں ڈھل گیا، انسان اپنی پوری ہستی کے ساتھ خدا کا اعتراف کامل کرنے والا بن گیا۔ اعلی معرفت ایک حدیث میں آیا ہے کہ : الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر (صحیح مسلم، رقم الحديث : 5256) یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور غیر مومن کے لیے جنت۔ اس حدیث کو عام طور پر مادی معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی دنیا کی مادی چیزوں میں مومن کو سکون نہیں ملتا، جب کہ غیر مومن ان مادی چیزوں کو پا کر خوش ہو جاتا ہے۔ یا یہ کہ مومن کو شریعت کے نواہی ( ممنوعات ) میں جینا پڑتا ہے، جب کہ غیر مومن اپنے آپ کو اس قسم کی شرعی پابندیوں سے آزاد سمجھتا ہے۔

لیکن اس حدیث کا ایک اور مطلب ہے جو اعلیٰ معرفت سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک مومن جب حقیقت کی دریافت کے اُس ارتقائی مرحلے پر پہنچتا ہے جہاں اُس کو اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، اُس وقت دنیا اُس کے لیے ایسی ہو جاتی ہے جیسے کہ وہ ایک نفسیاتی قید خانے میں ہے، جیسے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اُس کے لیے بنائی نہیں گئی، جہاں اُس کی روحانی تسکین کا سامان موجود نہیں۔

ایسے مومن کو جب اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا وجود اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page