Al-Risala · June 2011 · page 21

معرفتِ الہی

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱

متمل نہیں، اُس کے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعے وہ اپنی عارفانہ دریافت کو بیان کر سکے، اُس کے پاس ایسے سامعین نہیں جو اس کی باتوں کو سمجھ سکتے ہوں، اُس کے آس پاس وہ ماحول نہیں جہاں وہ اپنی معرفت کے ساتھ جی سکے۔

ایسا باشعور مومن ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے جیسے کہ وہ ایک قفس میں ہے، تمام چیزیں اس کو اپنی عارفانہ سطح کے اعتبار سے غیر موافق نظر آتی ہیں۔ یہی اعلیٰ کیفیت کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا سرٹیفکٹ ہے۔ خدا جس انسان کو ایسی حالت میں پاتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کو جنت میں داخل کردو، کیوں کہ جنت کو میں نے ایسے ہی بندوں کے لیے بنایا ہے۔ جنت ایسے ہی بندوں کے لیے ہے اور ایسے بندے صرف جنت کے لیے۔

معرفتِ الہی

خدا کی معرفت (realization of God) ایک شعوری دریافت ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو اس طرح نہیں ہو سکتی کہ وہ اللہ، اللہ، کی لفظی تکرار کرے، یا مراقبہ کر کے وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ دل کی ہر دھڑکن میں اس کو اللہ اللہ کی آواز سنائی دینے لگے۔ اس قسم کی چیزیں ایک غیر متعلق ورزش کی حیثیت رکھتی ہے، ان کا خدا کی معرفت سے کوئی تعلق نہیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ: خلق اللہ آدم علی صورته (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6227) یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ اسی کو لے کر ایک عربی مقولہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: من عرف نفسه فقد عرف ربه، یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔

یہ بات بلا شبہہ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح ایک انا (I) ہے، اُسی طرح خدا زیادہ بڑے پیمانے پر ایک انا ہے۔ یہ شعوری انا، ساری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ واقعہ انسان کی اپنی حیثیت کو بتاتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ خدا کے وجود کو بھی ثابت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اگر اس کائنات میں انسان کی صورت میں ایک چھوٹا استثنا (small exception)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page