معرفتِ الہی
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲
موجود ہے تو یہ واقعہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک بڑا استثنا (big exception) بھی یقینی طور پر موجود ہے۔ انسان کا وجود لازمی طور پر خدا کا وجود کا ثبوت بن جاتا ہے۔ اسی بات کو حدیث میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ــ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا، یعنی جس طرح خدا ایک استثنائی وجود ہے، اُسی طرح انسان بھی کائنات میں ایک استثنائی وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اگر اس استثنا کے ظاہر پر غور کرے تو وہ یقینی طور پر خدا کو دریافت کرلے گا، وہ پکار اٹھے گا کہ ــ میں ہوں، اس لیے یقینی طور پر خدا بھی ہے:
I am, therefore, God is. معرفت کا استحقاق ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: الکبریاء ردائی، والعظمة إزاری، فمن نازعنی واحداً منهما، فقذفته فی النار (سنن أبى داؤد، رقم الحديث: 4090) یعنی الله نے فرمایا کہ ــ کبریا ئی میری چادر ہے، اور عظمت میرا ازار ہے، ان دونوں میں سے کسی کے معاملے میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اُس کو آگ میں پھینک دوں گا۔
اس حدیث قدسی سے تواضع (modesty) کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے ساتھ انسان کی نسبت صرف حقیقی تواضع کی سطح پر قائم ہوتی ہے۔ انسان کے اندر اگر ایک ذرہ کے برابر بھی اپنی بڑائی کا احساس پایا جائے تو خدا سے اُس کی نسبت ہی نہیں قائم ہوگی، اور جس آدمی کی نسبت خدا سے قائم نہ ہو، اُس کا حال یہ ہوگا کہ وہ معرفت کا لفظ بولے گا، لیکن وہ معرفت سے کلی طور پر بے خبر رہے گا۔ حقیقی تواضع کی پہچان یہ ہے کہ ــ آدمی کا حال یہ ہو جائے کہ تعریف اُس کو خوش نہ کرے اور تنقید سے اس کو ناگواری نہ ہو۔
جس آدمی کے اندر حقیقی تواضع نہ ہو، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں ۔ اس قسم کا احساس اس کے لیے خدا سے تعلق قائم کرنے میں حتمی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سوکھی ہوئی زمین میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو پوری طرح جذب کرلیتا ہے۔ اس کی یہ ہے کہ سوکھی ہوئی زمین میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو پوری طرح جذب
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues