Al-Risala · June 2011 · page 23

عارفانہ شخصیت

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳

(absorb) کرلے گی۔ اس کے برعکس، گیلی زمین پانی کا ایک قطرہ بھی جذب نہیں کرے گی۔ متواضع انسان (modest man) اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والے معرفت کے فیضان (inspiration) کو پوری طرح قبول کرے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر کامل تواضع نہ ہو، اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ وہ معرفت کے فیضان کو قبول کرنے کے لیے اس کا آخذ (recipient) نہ رہے گا، وہ معرفت کی بارش کے ماحول میں بھی معرفت سے محروم رہے گا۔

عارفانہ شخصیت

حدیث میں آیا ہے کہ: اتقوا فراسة المومن، فإنه ينظر بنور الله (الترمذی، رقم الحديث: 3127) یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس حدیث میں فراست مومن سے مراد فراست عارف (wisdom of a realized person) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس شخص کو معرفت حاصل ہو جائے، وہ ایک بے پناہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی روشنی میں چلنے لگتا ہے، اور خدا کی روشنی کو بجھانے کی طاقت کسی کے اندر بھی نہیں۔ جس آدمی کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہو جائے، وہ انتہائی حد تک ایک باشعور انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے جس کو ذہنی بیداری (intellectual awakening) کہا جاتا ہے۔ وہ ایک نفس مطمئنہ (complex-free soul) بن جاتا ہے۔ اس کے اندر فرقان (29: 8) کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کر کے دیکھنا۔ اس کے اندر مستقبل بینی کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی فکر کے اندر وہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ آدمی چیزوں کے اضافی پہلو کو دیکھ سکے۔ یہی وہ صفت ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے:

A wise man is one who knows the relative value of things. معرفت کسی آدمی کے اندر زہد کی صفت پیدا کر دیتی ہے، یعنی دنیا سے بے رغبتی۔ یہی وہ انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: ما زهد عبد فی الدنیا إلا أنبت الله

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page