عارفانہ شخصیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴
الحكمة في قلبه، وأنطق بها لسانه، وبصّره عیب الدنیا وداء ها ودواء ها، وأخرجه منها سالماً إلى دار السلام (الفردوس بمأثور الخطاب، رقم الحديث: 6214)، یعنی جو بندہ دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں حکمت اگا دیتا ہے اور اس کی زبان پر حکمت کو جاری کر دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کے عیب دکھا دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کی بیماری اور اس کے علاج سے باخبر کر دیتا ہے، اور اس کو وہ دار السلام (جنت) تک سلامتی کے ساتھ پہنچا دیتا ہے۔ منفی سوچ نہیں حدیث میں آیا ہے کہ تم امعة نہ بنو، یعنی تم یہ نہ کہو کہ دوسرا شخص تمھارے ساتھ جو سلوک کرے گا، وہی سلوک تم اس کے ساتھ کرو گے۔ اس کے بجائے تمھارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص تمھارے ساتھ برا سلوک کرے گا، تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے (لا تكونوا إمعة، تقولون: إن أحسن الناس أحسنا، وإن ظلمونا ظلمنا، ولكن وطّنوا أنفسكم إن أحسن الناس أن تُحسنوا، وإن أساؤا فلا تظلموا ۔ سنن الترمذی، رقم الحديث: 2007)۔ معرفت صرف اُن عورتوں اور مردوں کو ملتی ہے جو ہمیشہ مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ رہنے والے ہوں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی موافق حالات کا ملنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں مثبت سوچ پر قائم رہنے کا فارمولا (formula) صرف ایک ہے، اور وہ ہے ۔ یک طرفہ اخلاقیات (unilateral ethics) یعنی یک طرفہ طور پر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، خواہ وہ اچھا سلوک کرتا ہو یا برا سلوک۔
معرفت صرف اُس سینے میں جگہ پاتی ہے جو مکمل طور پر منفی احساس سے خالی ہو۔ جس دل کے اندر نفرت اور غصہ اور انتقام موجود ہو، اُس دل میں کبھی معرفت جگہ نہیں پائے گی۔ انسان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں خود قانون فطرت کے تحت روزانہ نا خوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی آدمی کے لیے معرفت کے حصول کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ وہ منفی تجربہ (negative experience) کو مثبت سبق میں تبدیل کر سکے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues