Al-Risala · January 2011 · page 27

تعارف قرآن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷

قرآن میں جنگ سے متعلق کچھ آیتیں ہیں جو پورے قرآن کے مقابلے میں اُس کا ایک فی صد سے بھی کم حصہ ہیں۔ یہ آیتیں قرآن کے ابدی حکم کو نہیں بتاتیں، بلکہ وہ صرف ایک وقتی تدبیر کو بتاتی ہیں۔ یہ آیتیں اُس وقت اتریں، جب کہ مومنین اور غیر مومنین کے درمیان حالتِ جنگ (state of war) قائم ہو گئی تھی۔ یہ حالتِ جنگ مخالف گروہ کی طرف سے مسلح حملے کی بنا پر قائم ہوئی تھی۔ پیغمبر اسلام نے ہمیشہ ان حملوں کے مقابلے میں کسی نہ کسی تدبیر سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح وہ ہمیشہ ان حملوں کوٹالتے رہے۔ صرف چند بارایساہواکہ اعراض کی ہرکوشش ناکام ہوگئی اور مجبورانہ طور پرجنگ کے میدان میں مقابلے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔

خدا نے انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی عطا کی ہے۔ یہی آزادی انسانی سماج میں مختلف قسم کے مسئلے پیدا کرتی ہے۔ لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ کوئی اشتعال انگیز بات کرتا ہے جس سے دوسروں کو غصہ آجاتا ہے۔ کسی سے دوسرے کو نقصان پہنچتا ہے، اس کے نتیجے میں دوسرے شخص کے اندر انتقام کا جذبہ جاگتا ہے۔ کوئی شخص کسی ذاتی سبب سے دوسرے سے نفرت کرتا ہے۔ اس بنا پر دوسرا شخص بھی اُس سے جوابی نفرت کرنے لگتا ہے۔ یہ منفی تجربات کبھی اتنا زیادہ شدید ہوجاتے ہیں کہ ایک شخص یا دوسرے شخص کے درمیان، یا ایک گروہ یا دوسرے گروہ کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایساہرانسانی سماج میں ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے ۔

اس صورتِ حال کے بارے میں قرآن واضح طور پر یہ ہدایت دیتا ہے کہ لوگ ردِّعمل کا شکار نہ ہوں ۔ وہ منفی رویّے کا جواب منفی رویّے سے نہ دیں، بلکہ وہ اس کا جواب مثبت انداز میں دیں۔ اس مثبت جواب کو قرآن میں صبر اور اعراض کہا گیا ہے۔

مثلاً قرآن میں مومنین قرآن کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب اُنھیں کسی کے اوپر غصہ آتا ہے تو وہ اس کو معاف کردیتے ہیں (37:42) ۔ قرآن کی اس ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں ایک انسان کو دوسرے انسان سے جو تکلیف پہنچتی ہے، وہ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق ہے۔ خدا نے انسان کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page