Al-Risala · June 2011 · page 25

خالق کے وجود کی دریافت

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵

ناخوش گوار حالات میں بھی اپنی مثبت سوچ پر قائم رہے۔ وہ اپنے اندر وہ برتر سوچ (high thinking) پیدا کرے جس کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ماحول سے اثر قبول کئے بغیر اپنی بلند فکری کو برقرار رکھے ۔ یہی وہ صفت ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کا سفرِ معرفت رُکے بغیر ہر حال میں جاری رہے۔

خالق کے وجود کی دریافت

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلق الله آدم علی صورته (صحيح البخاری، رقم الحدیث: 6277) یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس وسیع کائنات میں ایک فطری استثنا (natural exception) کے طور پر بنایا گیا ہے۔ اپنے اس ذاتی تجربے سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ جب یہاں ایک فطری استثنا ممکن ہے تو فوق الفطری استثنا (supernatural exception) بھی یقینی طور پر ممکن ہے۔ انسان کا وجود خدا کے وجود کو قابلِ فہم (understandable) بناتا ہے۔

وسیع خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے (stars and planets) ہیں ۔ ہماری زمین میں بے شمار حیوانات ہیں۔ مگر انسان جیسی حیوانی مخلوق ساری کائنات میں کہیں موجود نہیں۔ انسان ساری کائنات میں ایک نادر استثنا (rare exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نادر استثنا پر غور کیا جائے تو یہ یقین کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ اس قسم کا ایک اور برتر استثنا یہاں موجود ہے۔ یہ معلوم واقعہ کے ذریعے نامعلوم واقعہ کو دریافت کرنا ہے۔ یہ استدلال پورے معنوں میں ایک علمی اور منطقی استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔

رینے ڈیکارٹ (René Descartes) فرانس کا مشہور فلسفی ہے۔ وہ 1596 میں پیدا ہوا، اور 1650 ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے کہا تھا کہ ــــ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں: I think, therefore, I am. مذکورہ فرانسیسی فلسفی صرف نصف صداقت (half truth) تک پہنچا۔ اس نے اپنے آپ کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page