If God created man, who created God.
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶
دریافت کیا، لیکن وہ اپنے خالق کو دریافت نہ کرسکا۔ اگر وہ مزید غور و فکر کرتا تو اپنے وجود (existence) کی صورت میں، وہ خدا کے وجود کو دریافت کرلیتا۔ اس کا اپنا وجود اس کے لیے خدا کے وجود کا ثبوت بن جاتا۔ وہ مخلوق کے ذریعے خالق کو دریافت کرلیتا۔ وہ پکار اٹھتا کہ ــــ میں ہوں، اس لیے خدا ہے: I am, therefore, God is. سب سے بڑا امتحان جان اسٹوارٹ مل (John Stuart Mill) انیسویں صدی عیسوی کا ایک برطانی فلسفی ہے۔ وہ 1806 میں پیدا ہوا، اور 1873 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی کتاب آٹو بائیوگرافی (Autobiography) 1873 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں مصنف نے لکھا ہے کہ پہلے میں روایتی طور پر خدا کو مانتا تھا۔ لیکن میرے باپ (James Mill) نے اس سلسلے میں مجھ سے ایک بات کہی، اُس کے بعد میں نے خدا کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا۔ میرے باپ نے کہا کہ ــــ اگر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا:
If God created man, who created God.
خدا کی معرفت کے بارے میں بلاشبہ یہ سب سے بڑا امتحان ہے۔ انسان کا ذہن ایک محدود ذہن ہے۔ اس کے باوجود انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ لامحدود خدا کی معرفت حاصل کرے۔ معرفت کا معاملہ اصلا یہی ہے کہ ایک محدود ہستی، ایک لامحدود ہستی کو دریافت کرے اور کامل یقین کے ساتھ اس کو مان لے۔ یہی معرفت ہے۔ اس مرحلے کو پار کیے بغیر کسی کو معرفت کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ خدا کی دریافت کا معاملہ دوسری چیزوں کی دریافت سے مختلف ہے۔ مثلاً قوتِ کشش (gravity) بھی ایک دریافت کا موضوع ہے، لیکن یہ دریافت صرف ایک علمی دریافت ہے، اس کی بنیاد پر کسی کو ابدی انعام ملنے والا نہیں۔ لیکن خدا کی دریافت کے ساتھ ایک عظیم انعام جڑا ہوا ہے۔ خدا کی دریافت کرنے والے کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ اس لیے خدا کی دریافت کی ایک قیمت رکھ دی گئی۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کسی کو خدا کی دریافت کا کریڈٹ نہیں مل سکتا۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی محدود ذہن کے ساتھ لامحدود کا احاطہ کرے، وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues