If God created man, who created God.
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷
عالم مشاہدہ (seen world) میں غیر مشہود خدا (unseen God) کو دریافت کرلے۔ اسی دریافت کا نام معرفت ہے، اور جنت کی قیمت یہی معرفت ہے۔ خاموشی اور معرفت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طويلَ الصَّمت (مسند احمد، رقم الحديث: 20311) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خاموش رہتے تھے۔ حدیث کی کتابوں میں خاموشی (silence) کی اہمیت کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ مثلاً:
عليكم بالصُّمت (الدّارمي، رقم الحديث: 2440) یعنی تم لوگ خاموشی کو لازم پکڑو۔
فليقل خيراً اوليصمت (مسند احمد، رقم الحديث: 6621)
یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ بہتر بات بولے یا وہ خاموش رہے۔
من صمتَ نجا (مسند احمد، رقم الحديث: 6481) یعنی جو خاموش رہا، اس نے نجات پائی۔
وأن يكون صمتى فكراً (جامع الأصول، رقم الحديث: 9317)
یعنی یہ کہ میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔
خاموش رہنا صرف خاموش رہنا نہیں ہے، خاموش رہنے کا مطلب ہے— سوچنا اور غور وفکر کرنا۔ ایک مومن جب خاموش رہے گا تو وہ اپنے رب کے بارے میں سوچے گا، اسی کا نام معرفت ہے۔ خاموشی معرفت کا دروازہ ہے۔ سچی خاموشی آدمی کو سچی معرفت تک پہنچاتی ہے۔ خاموشی آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسٹرکشن (distraction) سے بچائے۔ وہ اپنے مشاہدات اور تجربات میں توجیہہ (explanation) کا اضافہ کرے— وہ سادہ معلومات کو بامعنی معلومات بنائے۔ وہ عالم ظاہر سے نکل کر عالم باطن کا سفر کرے۔ وہ نفسیات کی سطح پر خدا اور
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues