Al-Risala · June 2011 · page 28

If God created man, who created God.

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸

فرشتوں سے رابطہ (contact) قائم کرے۔ یہ تمام چیزیں آدمی کی معرفت میں اضافہ کرتی ہیں۔ معرفت کا ذریعہ غور وفکر ہے، اور خاموشی کے بغیر غور وفکر کا عمل ممکن نہیں۔ خاموشی کسی انسان کو غیر خدا سے دور، اور خدا سے قریب کر دیتی ہے۔ خاموشی کسی انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ پورے عالمِ وجود سے معرفت کی غذا حاصل کرے، اُس کا عارفانہ سفر غیر منقطع طور پر (non-stop) جاری رہے۔ ایک صحابی کی مثال مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اپنی بیماری میں روئے۔ اُن سے پوچھا گیا کہ اے ابو ہریرہ، کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا: میں تمھاری اس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میں نے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت اور جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھ کو ان دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (بکـی أبو هريرة في مرضه، فقيل له ما يبكيك يا أبا هريرة ـ قال، أما أنني، فلا أبكي على دنیاکم هذه، ولكنّي أبكي لبعد سفري وقلة زادي۔

أصبحتُ في صعود مهبطة على جنّة ونار، فلا أدري إلى أيّها يُسلك بی۔

(الطبقات الكبرى لابن سعد، رقم الأثر : 5699)

صحابی رسول کا یہ کلمہ اعلیٰ معرفت کا کلمہ ہے۔ جب انسان کی معرفت بڑھتی ہے تو اُس وقت اُس کا حال وہی ہو جاتا ہے جس کی ایک مثال صحابی رسول کے مذکورہ قول میں ملتی ہے۔ اعلیٰ معرفت کیا ہے۔ اعلیٰ معرفت یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت کرلے۔ جب کوئی انسان اللہ کو اس کی عظمت و جلال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کی نظر میں اس کا اپنا وجود بالکل حقیر بن جاتا ہے۔ وہ جنت کے مقابلے میں اپنے اعمال کو بے حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کے پاس خدا کے دربار میں پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ یہی احساس اس کو اُس آخری حد تک پہنچا دیتا ہے جس کی تصویر حضرت ابو ہریرہ کے مذکورہ قول میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف، اللہ کا ارحم الراحمین ہونا، اُس کے اندر امید کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page