Al-Risala · June 2011 · page 29

معرفت کا سادہ فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹

دوسری طرف، اپنے عمل کی بے بضاعتی کو دیکھ کر وہ اس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں کسی بھی انعام کا مستحق نہیں۔ بے حس انسان صرف اپنے پلس پوائنٹ کو دیکھتا ہے اور حساس انسان کو صرف اپنا مائنس پوائنٹ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو عارف انسان کو غیر عارف انسان سے الگ کرتا ہے۔

معرفت کا سادہ فارمولا

خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کا قول ہے: عرفتُ ربی بفسخ العزائم (میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا)۔ یہ معرفت کا ایک ایسا فارمولا ہے جو ہر آدمی کو ہر وقت حاصل رہتا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کو روزانہ ایسے تجربات ہوتے ہیں، جب کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جو چاہا تھا، وہ نہیں ہوا، کبھی چھوٹا تجربہ اور کبھی بڑا تجربہ۔ ایسا ہر تجربہ آدمی کو اس کی محدودیت (limitation) یاد دلاتا ہے۔ ایسا ہر تجربہ آدمی کو بتاتا ہے کہ چاہنا اس کے اختیار میں ہے، لیکن اپنے چاہنے کو تکمیل تک پہنچانا اُس کے اختیار میں نہیں۔ جب بھی آدمی کا ارادہ پورا نہیں ہوتا تو یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہوتی ہے کہ انسان کی ایک حد (limit) ہے۔

جہاں آدمی کی حد آجائے اٗس کو فوراً محسوس کرنا چاہیے کہ اس کے بعد خدا کی حد شروع ہوگئی، خواہ وہ ایک چھوٹا واقعہ ہو، مثلاً کسی چیز کا ہاتھ سے چھوٹ کر گرنا یا کوئی بڑا واقعہ، مثلاً کسی منصوبے کا اپنی خواہش کے مطابق پورا نہ ہونا۔ اگر آدمی کے اندر شعوری بیداری (intellectual awakening) آچکی ہو تو ایسے ہر موقع پر وہ خدا کو دریافت کرے گا، ایسا ہر موقع اس کے لیے خدا کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا۔

یہ ایک سادہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ آدمی ہر وقت معرفت کے غذالے سکتا ہے۔ خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سند یافتہ ہو یا غیر سند یافتہ، اس قسم کا تجربہ ہر عورت اور مرد کوروزانہ بار بار پیش آتا ہے۔

اگر آدمی اپنے ذہن کو کھلا رکھے، اگر اُس کے اندر (thinking) کی صلاحیت زندہ ہو تو وہ اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page