Al-Risala · June 2011 · page 30

عظمتِ انسانی

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰

روزمرہ کی زندگی (daily life) میں ہر لمحہ، معرفت کی خوراک حاصل کرتا رہے گا۔ اس کے دل و دماغ میں معرفت کا سر چشمہ مسلسل طور پر جاری رہے گا۔

عظمتِ انسانی

وسیع خلا (space) میں بے شمار ستارے (stars) اور سیارے (planets) اور کہکشائیں (galaxies) ہیں۔ اس میں شمسی نظام (solar system) ہے جس میں بہت سے سیارے ہیں۔ اُن کے درمیان ایک استثنائی سیارہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ اس زمین پر لامتعداد مخلوقات ہیں ۔ ان لا تعداد مخلوقات کے ہجوم میں انسان ہے جو انوکھی صفات کا حامل ہے۔

ایسی وسیع کائنات (vast universe) میں ایک انسان زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ بول کر انسانی الفاظ میں کہتا ہے کہ ـــ خدایا، تو رب العالمین ہے۔ میں نے تیری تمام صفتوں کے ساتھ تیری کبریائی کا اعتراف کیا۔ میں تیرے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ سرنڈر کرتا ہوں۔ انسان کے یہ الفاظ خلا میں گونجتے ہیں ۔ ان کو کان والے بھی سنتے ہیں اور بغیر کان والے بھی۔ پھر ساری کائنات زبانِ حال سے پکار اُٹھتی ہے ـــ دیکھو، یہ انسان بھی کتنا قابلِ رشک ہے۔ ہماری تخلیق میں پہلے سے خدا کی معرفت موجود تھی، انسان نے خود اپنی کوشش سے خدا کو دریافت کیا۔ ہم بولے بغیر خدا کی حمد کر رہے تھے، یہ انسان بول کر خدا کی حمد کر رہا ہے۔ ہم مجبورانہ اطاعت پر قائم تھے، انسان نے اختیارانہ اطاعت پر اپنے کو قائم کیا۔ ہم غیر شعوری سطح پر خدا سے تعلق قائم کر پائے تھے، انسان شعور کی سطح پر دریافت کئے ہوئے الفاظ میں خالق کا نغمہ گا رہا ہے۔ ہم حالتِ مشہود میں خالق کا اقرار کر رہے تھے، انسان حالتِ غیب میں ہوتے ہوئے خالق کا اعتراف کر رہا ہے۔ ہم گویا مقلدانہ انداز میں خدا کی عبادت کر رہے تھے، انسان تخلیقی (creative) انداز میں خدا کا عبادت گزار بنا ہوا ہے۔ ہم زبانِ حال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہے تھے، انسان زبانِ قال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہا ہے۔ ہم محدود سطح پر خدا کی تسبیح کر رہے تھے۔ انسان لامحدود سطح پر خدا کی تسبیح کرنے والا بنا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page