Al-Risala · June 2011 · page 39

معرفت کی تمثیلات

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

زندگی سے نکال کر باشعور زندگی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔ معرفت کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بے خدا طرز زندگی سے نکل کر با خدا طرز زندگی کو اختیار کر سکے۔ معرفت کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اعلی امکانات (potentials) کو دریافت کرے اور خدا کی مدد سے اس کو واقعہ(actual) بنائے۔ معرفت تکمیل علم کا ذریعہ ہے، اور تکمیل حیات کا ذریعہ بھی۔ معرفت کی زمین ایک پودے کے اگنے کے لیے زرخیز زمین (fertile land) درکار ہوتی ہے۔ صرف زرخیز زمین ہی میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہاں ایک پودا اُگے اور پھر بڑھتے بڑھتے وہ ایک ہرا بھرا درخت بن جائے۔ اس قسم کا واقعہ کسی بنجر زمین (barren land) میں نہیں ہو سکتا۔ زرخیز زمین درخت کے اُگنے کے لیے موافق زمین ہے اور بنجر زمین درخت کے اگنے کے لیے غیر موافق زمین۔ یہی معاملہ معرفت کا بھی ہے۔ معرفت کا نشو و نما صرف ایک موافق انسان کی شخصیت میں ہوتا ہے۔ غیر موافق انسان کی شخصیت میں کبھی معرفت کا نشو و نما نہیں ہوتا۔ اس موافق شخصیت کو ایک لفظ میں، مثبت شخصیت (positive personality) کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح غیر موافق شخصیت کو ایک لفظ میں منفی شخصیت (negative personality) کہنا صحیح ہوگا۔ جو آدمی چاہتا ہو کہ اس کے اندر معرفت کا باغ پرورش پائے، اس کو چاہیے کہ وہ ہر قیمت پر اپنے آپ کو منفی شخصیت بننے سے بچائے۔ وہ اپنے آپ کو مثبت شخصیت بنائے، خواہ اُس کو اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ منفی شخصیت والا انسان وہ ہے جو رد عمل کی نفسیات میں جیتا ہو، جو ماحول کا اثر قبول کرتا رہے، جو اپنی شعوری نا پختگی (immaturity) کی بنا پر خارجی واقعات سے متاثر ہوتا رہے۔ ایسا انسان منفی شخصیت والا انسان ہے۔ ایسے انسان کو کبھی معرفت کا رزق نہیں مل سکتا۔

مثبت شخصیت والا انسان وہ ہے جو اپنی شعوری پختگی (maturity) کی بنا پر اس قابل ہو کہ وہ خارجی حالات سے اوپر اٹھ کر زندگی گزارے، جو خارجی اثرات سے غیر متاثر رہ کر اپنے ذہن کی تشکیل کر سکے، جو منفی تجربات کو مثبت سبق (positive lesson) میں تبدیل کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page