Al-Risala · July 2011 · page 6

قرآن کی سائنسی تفسیر

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۶

قرآن کی سائنسی تفسیر

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں تمام سائنسی مضامین موجود ہیں اور ان حوالوں کو لے کر قرآن کی سائنسی تفسیر کی جاسکتی ہے۔ اس معاملے میں کچھ لوگ اس حد تک گئے ہیں جس کو صرف غیرعلمی نقطۂ نظر کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً اُن کا یہ کہنا کہ ألم نشرح لك صدرك (94:1) میں علم تشریح الابدان (anatomy) کا حوالہ ہے۔ اور فکشفنا عنك غطائك فبصرك اليوم حديد (50:22) میں علم امراض چشم کا بیان ہے، وغیرہ۔

قرآن میں سائنسی مضامین کا یہ نظریہ بلاشبہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ قرآن ان معنوں میں ہرگز کوئی سائنسی کتاب نہیں۔ لیکن ایک اور اعتبار سے یہ بات بالکل درست ہے، وہ یہ کہ جدید سائنسی تحقیقات فہم قرآن میں مددگار کی حیثیت رکھتی ہیں۔

مثلاً قرآن کی سورہ المومنون میں بتایا گیا ہے کہ : وجعلنا من الماء كل شي حي یہ بات پچھلے دور کا قاری قرآن بھی ابتدائی طور پر جانتا تھا، مگر موجودہ زمانے کا قاری قرآن جب اس آیت کو سائنس کی نئی دریافتوں کے ساتھ ملا کر پڑھتا ہے تو وہ اس کی مزید تفصیل جان لیتا ہے۔ اس بنا پر قرآن کی صداقت کے بارے میں اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح قرآن کی سورہ یاسین میں یہ آیت ہے: وكل في فلك يسبحون اس آیت میں اجرام سماوی کی گردش کے بارے میں جو بات کہی گئی ہے، اُسے قدیم زمانے کا قاری قرآن بھی سمجھ سکتا تھا، لیکن آج کا ایک قاری قرآن جب جدید سائنسی دریافتوں کو لے کر اس آیت کو پڑھتا ہے تو وہ مزید اضافے کے ساتھ اس آیت کو سمجھنے لگتا ہے۔ اس طرح قرآن کی صداقت کے بارے میں اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔

قرآن کی سائنسی تفسیر کا ایک تصور غلو پر مبنی ہے، قرآن کی سائنسی تفسیر کا دوسرا تصور حقیقت پر مبنی ہے۔ پہلا تصور یقینی طور پر غلط ہے، اور دوسرا تصور یقینی طور پر درست۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page