متبادل نظام
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۷
متبادل نظام
قرآن کی سورہ الحج میں ارشاد ہوا ہے: الذین ان مکّنّاہم في الأرض أقاموا الصلوة، وأتوا الزكاة، وأمروا بالمعروف، ونهوا عن المنكر، ولله عاقبة الأمور (22: 41) یعنی اہل ایمان کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، اور زکات ادا کریں گے، وہ معروف کا حکم دیں گے، اور منکر سے روکیں گے، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اہل اسلام کی اُس حالت کا بیان ہے جس کو سیاسی اقتدار کہا جاتا ہے۔ لیکن اس آیت کے مطابق، یہ لوگ سیاسی اقتدار پا کر جو کام انجام دیں گے، وہ عین وہی کام ہے جس کو وہ سیاسی اقتدار سے پہلے بھی انجام دے رہے تھے، یعنی نماز کی اقامت، زکات کو ادا کرنا اور لوگوں کو برائی سے روکنا اور انھیں بھلائی کی تلقین کرنا۔ یہ سب وہی کام ہیں جو ہر مومن اقتدار کے بغیر بھی انجام دیتا ہے اور انھیں کاموں کو اُسے اقتدار پانے کے بعد بھی کرنے کے لیے بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے مطابق، سیاسی اقتدار کا وہ مقصد نہیں ہے جس کو کچھ لوگ نہایت جوش کے ساتھ بیان کرتے ہیں، یعنی غریبی ہٹانا، اقتصادی استحصال کو ختم کرنا، سماج کے اندر مادی خوش حالی لانا، آئیڈیل نظام قائم کرنا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے کچھ سیاست پسند مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام دنیا کو ایک متبادل نظام (alternative system) دیتا ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مضاباة (30: 9) کہا گیا ہے۔
موجودہ زمانے میں کچھ سیکولر مفکرین نے کہا کہ اشتراکیت (Communism) سرمایہ دارانہ نظام کا بدل (alternative) ہے۔ اسی طرح کچھ سیکولر مفکرین نے کہا کہ جمہوریت، بادشاہی نظام کا بدل ہے۔ اسی کی نقل میں کچھ مسلم مفکرین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اسلام سیکولر نظام کا ایک بدل ہے، وہ دنیا کو متبادل سیاسی اور معاشی نظام پیش کرتا ہے۔ مگر اس تصور کا ماخذ قرآن نہیں ہے، بلکہ اس کا ماخذ صرف اہلِ زمانہ کی تقلید ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حقیقت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues