نفاق کی علامت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۸
نفاق کی علامت
عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أربع من كن فيه كان منافقا خالصاً. ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدَعَها: إذا ائتُمِنَ خانَ، وإذا حدَّث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجرَ (صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق) یعنی چار خصلتیں ہیں جس کے اندر وہ خصلتیں ہوں، وہ خالص منافق ہے۔ اور جس شخص کے اندر اُن میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے، اُس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، یہاں تک کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے۔ جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ عہد کرے تو وہ اُس عہد سے پھر جائے، اور جب نزاع پیدا ہو تو وہ جھگڑنے لگے۔
اس حدیث میں منافق کے کردار کو بتایا گیا ہے۔ منافق انسان وہ ہے جو عدم تقویٰ کی بنا پر حق اور ناحق کے معاملے میں غیرحساس (insensitive) ہو جائے۔ ایسا انسان ایک بے اصول انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر مسئولیت (accountability) کا احساس باقی نہیں رہتا۔ اس کی روش ذاتی مفاد کے تابع ہوتی ہے، نہ کہ اصولِ حق کے تابع۔ اخلاقی معیار کی اہمیت اس کے اندر سے ختم ہو جاتی ہے، وغیرہ۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کو کوئی امانت سونپی جائے تو وہ نہایت آسانی سے اس کے معاملے میں خیانت کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ جب وہ بات کرتا ہے تو اپنے آپ کو سچ بولنے کا پابند نہیں سمجھتا، وہ نہایت آسانی کے ساتھ ایسی بات کہہ دیتا ہے جو حقیقت واقعہ کے خلاف ہو۔ ایسا آدمی عہد کا پابند نہیں ہوتا، وہ نہایت آسانی کے ساتھ عہد کرنے کے باوجود اس عہد کو توڑ دیتا ہے۔ اسی طرح ایسے انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص سے اس کا اختلاف یا نزاع ہو جائے تو وہ اس کے معاملے میں انصاف پر قائم نہیں رہتا۔ وہ علمی گفتگو کے بجائے الزام تراشی کی زبان بولنا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues