Al-Risala · July 2011 · page 9

نفاق کی علامت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۹

شروع کر دیتا ہے۔ سنجیدہ تبادلہ خیال کے بجائے، وہ جھگڑے کا انداز اختیار کر لیتا ہے۔ گفتگو کو دلائل تک محدود رکھنے کے بجائے، وہ زیر تنقید شخص کی نیت پر حملہ کر دیتا ہے۔ علمی تجزیہ (analysis) کے بجائے، وہ منفی ریمارک (negative remark) دینا شروع کر دیتا ہے۔ حقائق کے حوالے سے بات کرنے کے بجائے، وہ قیاسات کے حوالے سے بات کرنا شروع کر دیتا ہے۔ معاملے کو اصول تک محدود رکھنے کے بجائے، وہ مفروضات کے حوالے سے گفتگو کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اصولی بنیاد پر بحث کرنے کے بجائے، وہ ذاتی نوعیت کی چیزوں سے بحث شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ فریقِ ثانی کی طرف ایسی بات منسوب کرنے لگتا ہے جو کہ اُس نے کبھی نہ کہی ہو۔ وہ اپنے موقف کی حمایت میں ایسی باتیں بولنے لگتا ہے جو صرف سنی سنائی ہوتی ہیں، اُن کی کوئی اصل نہیں ہوتی، وغیرہ۔ منافق کی جن خصلتوں کا ذکر مذکورہ حدیث رسول میں کیا گیا ہے، وہ بے حد سنگین خصلتیں ہیں۔ ان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جو لوگ ان خصلتوں کے حامل ہوں، اُن کے اندر کمزور شخصیت (weak personality) پرورش پاتی ہے۔ ایسا آدمی اُس عظیم نعمت اسے محروم ہو جاتا ہے جس کو اسٹرانگ شخصیت (strong personality) کہا جاتا ہے۔

اس خصلت کا مزید نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو فرشتوں کی صحبت نہیں ملتی۔ اس کو ربانی الہامات (divine inspirations) نہیں پہنچتے۔ وہ اعلیٰ معرفت کی غذا نہیں پا تا۔ خدا سے اس کا ربط قائم نہیں ہوتا۔ ایسے آدمی کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جاتا ہے۔ وہ تزکیہ کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایمان کی روشنی اس کے داخل تک نہیں پہنچتی۔ کمزور شخصیت والا آدمی ہمیشہ شیطان کے زیر اثر رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، اسٹرانگ شخصیت والے آدمی کے ساتھ وہ ملکوتی تجربہ گزرتا ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملائكة أن لا تخافوا ولا تحزنوا وأبشروا بالجنة التي كنتم توعدون (30: 41)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page