اکّالُ الرجال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۴
سوال و جواب سوال ماہ نامہ الرساله (جون 2007) میں مسیح کی آمد ثانی سے مراد، مسیح کے رول کی آمد ثانی بتایا گیا ہے۔ براہ کرم، اس معاملے کو واضح فرمائیں۔ (حافظ ابوالحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ)۔ جواب قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات دو قسم کے ہیں—ایک، محکمات۔ دوسرے، متشابہات (3:7)۔ محکم آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو غیر مشتبہ زبان (exact language) میں بیان کیا گیا ہو۔ مثلاً رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا (283: 2)۔ متشابہ آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو مشتبہ زبان یا غیر متعین الفاظ (inexact language) میں بیان کیا گیا ہو۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ—نماز قائم کرو (أقيموا الصلاة)۔ مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ نماز کو 24 گھنٹوں کے درمیان کن مخصوص اوقات میں ادا کرو۔
متشابہ اسلوب سے وہی اسلوب بیان مراد ہے جس کو فن تعلیم میں ڈسکوری متھڈ (discovery method) کہا جاتا ہے، یعنی مسئلہ کو غیر واضح صورت میں طالب علم کے سامنے رکھ دینا اور طالب علم کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ اپنی قوتِ فکر کو استعمال کر کے غیر واضح مسئلے کو واضح صورت میں دریافت کرے۔
مسیح کی آمد ثانی کو بیان کرنے کے لیے قرآن اور حدیث میں یہی متشابہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے، قرآن میں اشارات کی زبان میں، اور حدیث میں نسبتاً صراحت کی زبان میں۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ الانعام میں 18 نبیوں، بشمول حضرت مسیح، کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: أولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده (90: یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس تم بھی ان کے طریقے پر چلو۔
قرآن کی سورہ الصف میں یہ اشارہ نام کی صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ چناں چہ فرمایا کہ:
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues