اکّالُ الرجال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۵
”اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار مکیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی۔ پس وہ غالب ہو گئے۔ “ (14:61)
قرآن کی اس آیت میں اہل اسلام کو خطاب کیا گیا ہے۔ اُن سے کہا گیا ہے کہ تم اللہ کی نصرت کرنے والے بنو، جس طرح تم سے پہلے عیسیٰ کے حواری، اللہ کی نصرت کرنے والے بنے تھے۔ آیت میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ نصرت الہیٰ کا یہی پیٹرن تمھارے لیے فتح وکامیابی کا ذریعہ ہوگا۔ اس سے مراد تاریخ انسانی کا بعد کا زمانہ ہے، یعنی بعد کے زمانے میں مسیحی ماڈل فتح وکامیابی کا ذریعہ بن جائے گا۔ مسیحی ماڈل عین وہی ماڈل ہے جس کا نمونہ ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں ملتا ہے۔ مکی دور میں رسول اور اصحابِ رسول نے اپنے خلاف کئے جانے والے تشدد کے جواب میں یک طرفہ صبر کا ثبوت دیا۔ اس اعتبار سے مسیحی ماڈل اور پیغمبر اسلام کا مکی ماڈل دونوں ہم معنی الفاظ ہیں، مگر چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ بعد کے زمانے کے مسلمان کی ماڈل کی اہمیت سے غافل ہو جائیں گے، اس لیے اس دعوتی ماڈل کو قرآن میں مسیحی ماڈل کے حوالے سے بیان کیا گیا۔ کیوں کہ حضرت مسیح کی زندگی میں صرف مکی ماڈل ہے، اُن کے یہاں مدنی ماڈل سرے سے موجود نہیں۔
مسیحی ماڈل یا مکی ماڈل سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں ہے۔ اُس سے مراد عین وہی چیز ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں دعوت کا پرامن طریقہ (peaceful method of dawah) کہا جاسکتا ہے۔ مسیح کے حوالے سے اس ماڈل کو بیان کرنا صرف تقریب فہم کے لیے ہے، نہ کہ حصر کے لیے۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں مدعو کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار ہوتا تھا، حتیٰ کہ بشرط استطاعت، تشدد اور قتال کی نوبت آجاتی تھی۔ ’’مدنی دور‘‘ دراصل اسی دور تشدد کی ایک علامت ہے۔ مدنی دور میں رسول اور اصحابِ رسول نے قتال کے جواب میں قتال کے ذریعہ اپنا دفاع کیا۔ مگر یہ قتال بلاشبہ ایک زمانی ظاہر تھا، نہ کہ مستقل معنوں میں پیغمبرانہ طریق کار کا ظاہر ہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues